اوورسیزتازہ ترینسائنس ٹیکنالوجی
ٹرنڈنگ

میٹا نے انڈیا کی درخواست پر مسلم نیوز اکاؤنٹ بلاک کر دیا

انڈیا میں 67 لاکھ فالوورز رکھنے والے اکاؤنٹ کے ایڈیٹر نے اقدام کو سنسرشپ قرار دے کر میٹا سے بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

انسٹاگرام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مقبول نیوز اکاؤنٹ @Muslim کو انڈیا میں بلاک کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ اقدام انڈین حکومت کی قانونی درخواست پر مقامی قوانین کے تحت اٹھایا گیا۔ اکاؤنٹ کے 67 لاکھ فالوورز ہیں اور یہ مسلم دنیا سے متعلق رپورٹنگ کے لیے جانا جاتا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور دونوں جانب سے حالیہ جھڑپوں میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

انڈین صارفین کو اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش پر ایک پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ یہ اکاؤنٹ انڈیا میں دستیاب نہیں۔ انسٹاگرام کے مطابق، یہ اقدام انڈیا کے مقامی قوانین کے تحت حکومتی درخواست پر اٹھایا گیا ہے۔

ابھی تک انڈین حکومت نے اس معاملے پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا۔ تاہم حالیہ دنوں میں انڈیا میں پاکستانی اداکاروں، کرکٹرز اور دیگر مشہور شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی محدود کیا گیا ہے۔

اکاؤنٹ کے بانی اور چیف ایڈیٹر عامر الخطاطبہ نے کہا ہے کہ انہیں انڈیا سے سینکڑوں پیغامات، ای میلز اور تبصرے موصول ہوئے ہیں جن میں صارفین نے بتایا کہ وہ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک واضح مثال ہے کہ ریاستیں کس طرح میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

عامر الخطاطبہ نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم سچائی کو دستاویزی شکل دینے کا کام جاری رکھے گی اور وہ انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے میٹا سے مطالبہ کیا کہ اکاؤنٹ کو انڈیا میں بحال کیا جائے۔

میٹا نے اس مخصوص کیس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم اے ایف پی کو ایک عمومی لنک فراہم کیا گیا ہے جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ کمپنی کس طرح حکومتی درخواستوں پر مواد کو محدود کرتی ہے، جب وہ مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرے۔

@Muslim انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے مسلم نیوز اکاؤنٹس میں شامل ہے اور مختلف خطوں سے خبروں اور تجزیے کی فراہمی کے لیے جانا جاتا ہے۔

ادھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں اب تک کم از کم 43 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انڈین فوج نے اپنی حریف ریاست پر میزائل حملے کیے، جس کے جواب میں دونوں اطراف سے گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے۔

انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے، تاہم پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انڈین حملوں کا جواب دے گا۔

انڈیا میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد پاکستانی یوٹیوب چینلز کو بھی بند کیا گیا ہے، جن پر مبینہ طور پر اشتعال انگیز مواد نشر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان چینلز میں کئی نیوز چینلز بھی شامل ہیں۔

اسی دوران، پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور کرکٹ کپتان عمران خان، اداکار فواد خان، گلوکار عاطف اسلم اور کرکٹرز بابر اعظم، محمد رضوان، شاہد آفریدی اور وسیم اکرم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک انڈیا میں رسائی محدود کر دی گئی ہے۔

کشیدگی کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا سیلاب آ گیا ہے، جس میں پرانی تصاویر، ویڈیوز اور ڈیپ فیک مواد کو حالیہ حملوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button