اوورسیزپاکستانتازہ ترین
ٹرنڈنگ

پاکستان اور انڈیا کی جنگ میں فریق نہیں بنیں گے: امریکا

نائب امریکی صدر نے ایٹمی تصادم کا امکان مسترد کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے۔

نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اگرچہ انڈیا نے پاکستان پر جارحیت کا آغاز کیا اور پاکستان نے جواب دیا، مگر امریکا اس تنازع میں مداخلت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لا رہا ہے، تاہم کسی ممکنہ جنگ میں عملی طور پر شریک نہیں ہوگا۔

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایٹمی جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اور امریکا چاہتا ہے کہ ایسا کوئی منظرنامہ سامنے نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جوہری تصادم کے امکانات کم ہیں، لیکن کشیدگی کی شدت باعث تشویش ضرور ہے۔

جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ امریکا دونوں ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے میں ہے تاکہ تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے، تاہم کسی بھی قسم کی عسکری مداخلت واشنگٹن کی پالیسی کا حصہ نہیں۔

انٹرویو کے دوران نائب صدر نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی خارجہ حکمت عملی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں امریکا کو عالمی سطح پر نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں یورپ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کوئی پالیسی وضع کی جائے تو وہ بائیڈن کی رہنمائی سے گریز کریں گے۔

جے ڈی وینس نے عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے، روس-یوکرین تنازع، چین کے ساتھ تجارتی کشمکش، اور امریکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر بھی اپنی رائے دی۔

دوسری جانب، تنازع کی جڑ 22 اپریل کو انڈیا کے زیرانتظام پہلگام میں پیش آنے والے واقعے سے جڑی ہے، جہاں سیاحوں کی ہلاکت کے بعد 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب انڈین افواج نے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جسے پاکستان نے کھلی جارحیت قرار دیا۔

جوابی کارروائی میں پاکستان کی مسلح افواج نے انڈیا کے پانچ جنگی طیارے، جن میں تین رافیل بھی شامل تھے، مار گرائے، جب کہ متعدد فوجی چوکیوں اور ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق، لائن آف کنٹرول پر چورا کمپلیکس میں انڈین فوج نے سفید جھنڈا لہرا کر پسپائی اختیار کی۔

قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان آرمی کو مکمل اختیارات دیتے ہوئے جوابی حکمت عملی پر عمل درآمد کی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری سطح پر انڈیا کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ حملے کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

امریکا سمیت یورپی یونین، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، روس، جرمنی، یونان اور سوئٹزرلینڈ نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور مسائل کو سفارتی انداز میں حل کرنے کے لیے فوری مذاکرات کا آغاز کریں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button