
پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کی اقسام، تعداد، مساکن اور خطرات کا تعین کرنے کے لیے پیر کو صوبے کی تاریخ کا پہلا جامع سروے شروع کر دیا۔ 18 ماہ پر محیط یہ سروے بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم کے تعاون سے کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد حیاتیاتی تنوع کا سائنسی انداز میں تجزیہ اور تحفظی حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق سروے کی مدد سے پنجاب کا ماحولیاتی نقشہ تیار کیا جائے گا اور نایاب یا معدومی کے خطرے سے دوچار اقسام کی نشاندہی کی جائے گی تاکہ ان کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ محکمے کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا سروے ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حاصل شدہ ڈیٹا کو صوبائی وائلڈ لائف ریڈ بُک میں شامل کیا جائے گا، جسے بعد ازاں بین الاقوامی سطح پر حیاتیاتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔
پنجاب ممکنہ طور پر خطے کا واحد صوبہ ہے جہاں اس قدر منظم اور سائنسی بنیادوں پر جنگلی حیات کا سروے کیا جا رہا ہے۔ اس سے تیار ہونے والی ’وائلڈ لائف ریڈ ڈیٹا بُک‘ تحفظِ ماحول کے لیے پالیسی سازی میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔
سروے کے دوران پنجاب بھر میں پائے جانے والے جانوروں اور پرندوں کی اقسام، تعداد، رہائش گاہوں اور درپیش خطرات کے حوالے سے تفصیلی اعداد و شمار جمع کیے جائیں گے۔ ماہرینِ حیاتیاتی تنوع، رضاکار، مقامی کمیونٹیز اور جدید ٹیکنالوجی جیسے کیمرہ ٹریپس، جی پی ایس اور ڈرونز اس مقصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جب کہ مختلف جامعات کے اساتذہ، طلبا اور این جی اوز کے نمائندے بھی سروے ٹیموں میں شامل ہیں۔
پراجیکٹ ہیڈ مدثر حسن کے مطابق سروے کا بنیادی فوکس مقامی اقسام جیسے اڑیال، چنکارہ، نیل گائے، ہاگ ڈئیر، انڈس ڈالفن، پینگولن اور تلور پر ہوگا، تاہم دیگر اقسام کی بھی دستاویزی کارروائی کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سروے نہ صرف پالیسی سازی کے لیے اہم معلومات فراہم کرے گا بلکہ انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم میں کمی، غیر قانونی شکار کی روک تھام اور صوبے بھر میں محفوظ علاقوں کے قیام میں بھی معاون ثابت ہو گا۔