
ارتھ ڈے پر دنیا بھر میں ماحول بچانے کا مطالبہ
موجودہ رفتار سے دنیا حدِ درجہ حرارت عبور کر سکتی ہے، ماہرین فکرمند
دنیا بھر میں 22 اپریل کو ارتھ ڈے کی 55ویں سالگرہ منائی گئی، جہاں ماحولیاتی تحفظ، پائیدار ترقی اور موسمیاتی انصاف کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2030 کے اہداف کی ڈیڈ لائن تیزی سے قریب آ رہی ہے۔
بین الاقوامی کانفرنسوں سے لے کر مقامی شجرکاری مہمات تک، دنیا بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن کا مقصد کاربن اخراج میں کمی اور صاف بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا تھا۔ ماہرین نے زور دیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں کمی لانے کے لیے توانائی کے ذرائع کو فوری طور پر قابل تجدید ذرائع کی جانب منتقل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق موجودہ رفتار سے چلنے کی صورت میں دنیا 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد عبور کر سکتی ہے، جو خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ توانائی کے استعمال میں کمی، شجرکاری اور پائیدار طرزِ زندگی کو اپنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آنے والے مہینوں میں متعدد ممالک بین الاقوامی موسمیاتی مذاکرات میں اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں گے۔