تازہ ترینصحت
ٹرنڈنگ

معمول کے سی ٹی اسکین مستقبل میں 5 فیصد کینسر کیسز کا سبب بن سکتے ہیں: تحقیق

جاما انٹرنل میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق یہ اسکین امریکہ میں 80,000 سے 127,000 تک کینسر کیسز کا سبب بن سکتے ہیں۔

امریکہ میں کیے گئے معمول کے سی ٹی سکینز مستقبل میں سالانہ 5 فیصد تک نئے کینسر کیسز کا باعث بن سکتے ہیں، جاما انٹرنل میڈیسن میں شائع ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے۔

تحقیق میں جدید ماڈلنگ تکنیکوں کی مدد سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ اسکینز زندگی بھر کے دوران تقریباً 80,000 سے 127,000 تک کینسر کیسز پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ مرکزی تخمینہ 103,000 کیسز کا ہے۔

سی ٹی سکین طبی تشخیص میں استعمال ہونے والی ایک عام امیجنگ تکنیک ہے جو کئی بیماریوں کی شناخت اور علاج میں مدد دیتی ہے، تاہم اس میں آئنائزنگ ریڈی ایشن کا استعمال ہوتا ہے جو کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر بار بار یا زیادہ خوراک میں اسکین کیے جانے کی صورت میں۔

تحقیق کے مطابق، بچوں میں سی ٹی اسکین خون اور دماغ کے کینسر کے امکانات میں اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ بالغ افراد میں یہ ریڈی ایشن ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جو بعد ازاں کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

کینسر کا خطرہ مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جن میں ریڈی ایشن کی مقدار، اسکین کیا جانے والا جسمانی حصہ، مریض کی عمر، جنس، وزن اور امیجنگ تکنیک شامل ہیں۔

2007 میں کی گئی ایک سابقہ تحقیق کے مطابق، اس وقت کے اسکینز 2009 تک تقریباً 29,000 کینسر کیسز کا سبب بن سکتے تھے۔ اس کے بعد سے امریکہ میں سالانہ سی ٹی اسکینز میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔

حالیہ تحقیق میں ماہرین نے جدید ماڈلنگ طریقہ کار اور اسکین کی سطح پر موجود تفصیلی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے کینسر کے خطرات کا ازسر نو جائزہ لیا۔ تحقیق میں لندن کے انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ، سیئیٹل میں قیصر پرماننٹے واشنگٹن، اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے ماہرین شامل تھے۔

مطالعے میں پروفیسر ایمی بیئرنگٹن کے تیار کردہ کینسر رسک ماڈل کا استعمال کیا گیا، جو انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ میں کلینیکل کینسر ایپیڈیمولوجی گروپ کی سربراہ ہیں۔

محققین نے واضح کیا کہ اس تحقیق کا مقصد عوامی صحت کے لیے سی ٹی اسکین کے استعمال سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ تشخیصی فوائد اور ممکنہ خطرات کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button