
پاکستان نے منگل کے روز مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے، جس میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 26 سیاح ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکی نائب صدر جی ڈی وانس انڈیا کے دورے پر موجود تھے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے ہلاک شدگان کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔ ترجمان نے ایک بیان میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے واقعے کو افسوسناک قرار دیا۔
فائرنگ کے فوری بعد مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے۔ انڈین وزیر داخلہ امیت شاہ سری نگر پہنچے، جہاں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی۔ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنا سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے دہلی واپسی اختیار کی۔
تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم، وزیراعلی عمر عبداللہ نے اس واقعے کو کئی برسوں بعد پیش آنے والا بڑا حملہ قرار دیا۔ محبوبہ مفتی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور سیکیورٹی کوتاہیوں کی جامع تحقیقات ضروری ہیں۔
بدھ کے روز واقعے کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی، جس کی کال کشمیر چیمبر آف کامرس، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن اور وکلا تنظیموں نے دی تھی۔ سری نگر میں احتجاجی مارچ کی قیادت محبوبہ مفتی نے کی۔
امریکی نائب صدر جی ڈی وانس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ حملے کے بعد نہ صرف کشمیر بلکہ ممبئی سمیت انڈیا کے کئی بڑے شہروں میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
سیاحتی علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد ہزاروں سیاح وادی چھوڑ کر واپس جا رہے ہیں، جس سے خطے کی سیاحت اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔