
میانمار میں زلزلے کی پیش گوئی پر ٹک ٹاک نجومی گرفتار
ٹک ٹاک نجومی نے 12 دن کے اندر شدید زلزلے کی پیش گوئی کی، جسے 33 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔
میانمار میں حکام نے ایک ٹک ٹاک نجومی کو زلزلے کی پیش گوئی سے خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں رواں ہفتے مونیوا شہر میں اس کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کر لیا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، 21 سالہ جان مو تھی نے 9 اپریل کو پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ اگلے 12 دنوں کے اندر ہر شہر میں شدید زلزلہ آئے گا۔ ویڈیو میں شہریوں کو کہا گیا کہ وہ دن کے وقت بلند عمارتوں سے دور رہیں اور جھٹکوں کے دوران قیمتی اشیاء کے ساتھ فوری طور پر باہر نکل جائیں۔ یہ ویڈیو اب تک 33 لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔
فوجی حکومت نے عوام میں خوف پھیلانے والی ویڈیو پر کارروائی کی، حکام کے مطابق یہ اقدام افواہیں روکنے کے لیے اٹھایا گیا۔
گزشتہ ماہ، میانمار کے وسطی علاقے میں 7.7 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس میں اقوام متحدہ کے مطابق 3,700 سے زائد افراد ہلاک اور 60 ہزار بے گھر ہوئے۔ آفٹر شاکس کے خدشے کے باعث ہزاروں افراد اب بھی خیمہ بستوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
امریکی ادارہ جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کی درست پیشگی پیش گوئی سائنسی طور پر ممکن نہیں۔ ادارے کے مطابق اب تک کوئی بھی سائنس دان بڑے زلزلے کی درست پیشگی پیش گوئی کرنے کے قابل نہیں ہوا، اور مستقبل قریب میں بھی ایسی کسی پیش رفت کی توقع نہیں کی جارہی۔
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بدستور مشکل کا شکار ہیں، جہاں انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ملک پہلے ہی خانہ جنگی کی صورتحال سے دوچار تھا، جس کے باعث امداد کی فراہمی مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔
زلزلے کے جھٹکے ہمسایہ ملک تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک تک محسوس کیے گئے، جہاں ایک بلند عمارت منہدم ہوگئی۔ تھائی حکام نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ تعمیراتی معیار، ڈیزائن یا معائنے کے نظام میں ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کی جاسکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات زیر غور ہیں۔