
لاہور اور دیگر شہروں میں 7 اور 8 مئی کی درمیانی شب انڈیا نے پاکستانی فضائی حدود میں ایک بار پھر فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 12 ہیرپ ڈرونز بھیجے، جنہیں پاک فوج نے فوری ردعمل میں مار گرایا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق انڈیا کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے پاکستانی فضائی خودمختاری کو چیلنج کرنا کھلی جارحیت کے مترادف ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ یہ ڈرونز لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، راولپنڈی، اٹک، بہاولپور، میانو، چھور اور کراچی کے نواح میں مار گرائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں گرنے والا ایک ڈرون فوجی تنصیب کو جزوی نقصان پہنچا اور چار اہلکار زخمی ہوئے۔ میانو میں ایک اور ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک نہتا شہری جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ انڈیا کی یہ کارروائی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنی فضائی اور زمینی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہیں، اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ ان واقعات کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ انڈیا کی اس کارروائی کو عالمی سطح پر اٹھانے کے لیے وزارت خارجہ متعلقہ فورمز سے رجوع کرے گی۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی دراندازی کی صورت میں ردعمل زیادہ سخت ہو سکتا ہے، جس کی ذمہ داری مکمل طور پر انڈیا پر عائد ہو گی۔