اوورسیزتازہ ترینکھیل
ٹرنڈنگ

لندن اور مانچسٹر میں ایک ہی دن دو میراتھنز

منتظمین کے مطابق دونوں میراتھنز کے نتیجے میں تقریباً 80 ملین پاؤنڈ فنڈ ریزنگ کے لیے جمع ہونے کی توقع ہے۔

لندن اور مانچسٹر میں اتوار، 27 اپریل کو منعقد ہونے والی میراتھن ریسز میں مجموعی طور پر 90 ہزار سے زائد افراد شریک ہوں گے۔ منتظمین کو توقع ہے کہ ان ایونٹس کے ذریعے فلاحی اداروں کے لیے 80 ملین پاؤنڈز تک کے عطیات جمع کیے جائیں گے۔دونوں شہروں میں ایک ہی دن میراتھنز کے انعقاد سے برطانیہ میں بیک وقت دو بڑے شہروں میں دوڑ کا منفرد موقع فراہم کیا جائے گا۔

لندن میراتھن، جو برطانیہ کا سب سے بڑا دوڑ کا ایونٹ مانا جاتا ہے، اس سال پہلی بار مانچسٹر میراتھن کے ساتھ ایک ہی دن منعقد کی جا رہی ہے۔ ان دونوں شہروں میں مجموعی طور پر 2.3 ملین میل کی دوڑ متوقع ہے۔ یہ فاصلہ زمین کے گرد تقریباً 94 چکر لگانے کے برابر بنتا ہے۔

لندن میراتھن میں اس بار 56 ہزار افراد شرکت کریں گے۔ اگرچہ یہ تعداد بہت زیادہ ہے، لیکن پیرس میراتھن حال ہی میں 57 ہزار شرکا کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی میراتھن کا اعزاز حاصل کرچکی ہے۔ اس طرح لندن معمولی فرق سے دوسرے نمبر پر آ جائے گا۔

مانچسٹر میراتھن، جو برطانیہ میں دوسری بڑی میراتھن تصور کی جاتی ہے، اس سال 30 ہزار سے زائد رنرز کی میزبانی کرے گی۔ ان میں بڑی تعداد میں ایسے افراد شامل ہیں جو فلاحی مقاصد کے لیے دوڑ رہے ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ دونوں میراتھنز کے نتیجے میں مجموعی طور پر 80 ملین پاؤنڈز خیرات کے لیے جمع ہونے کی امید ہے۔

برطانیہ میں دوڑ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی تصدیق اسپورٹس شوز 2024 کی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی 40 فیصد آبادی ہفتہ وار دوڑ لگاتی ہے، جبکہ 27 فیصد افراد ہفتے میں ایک سے تین بار دوڑ میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ صرف تفریحی ہی نہیں بلکہ مقابلہ جاتی سطح پر بھی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2024 میں دوڑ سے متعلق ایونٹس میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ 13 فیصد غیر رنرز نے دوڑ شروع کرنے کی واضح خواہش کا اظہار کیا ہے، جو کہ گزشتہ سال کے 8 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

خواتین کی شرکت میں دلچسپی ضرور بڑھی ہے، لیکن کئی رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 48 فیصد خواتین نے دوڑ کے دوران خود کو غیر محفوظ محسوس کیا۔ اسی طرح 70 فیصد خواتین نے ہراسانی جیسے رویوں کی شکایت کی۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں باقاعدہ دوڑ کا رجحان اب بھی کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق 44 فیصد مرد جبکہ صرف 35 فیصد خواتین باقاعدگی سے دوڑ میں شریک ہوتی ہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button