
پاکستان کے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب انڈیا کی جانب سے شہری علاقوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم متحد ہے اور پاک افواج دشمن کی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ انڈیا نے عام شہریوں کو نشانہ بنا کر کمزوری اور خوف کا ثبوت دیا۔ ان کے بقول، ’’پاک افواج کی بروقت جوابی کارروائی نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے شہادتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، لیکن دفاع سے غافل نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انڈین حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کو وہی جواب دیا جائے گا جیسا 28 مئی 1998 کو دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہر پاکستانی اس آزمائش میں سرخرو ہوگا، اور اللہ کے فضل سے فتح پاکستان کی ہوگی۔‘‘
انہوں نے بہاولپور پر حملے کو انڈین جارحیت کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان عزت کے ساتھ امن چاہتا ہے، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو قوم ایک لشکر میں تبدیل ہو جائے گی۔ انہوں نے ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور ہسپتالوں کو ہنگامی حالت میں تیار رہنے کی ہدایت کی اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے انڈین میزائل حملوں کو کھلی جارحیت اور علاقائی امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’انڈیا کا جنگی جنون جنوبی ایشیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ بلوچستان کے عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے انڈین حملوں کی مذمت کرتے ہوئے قومی اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاق اور افواجِ پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔