
منگل اور بدھ کی درمیانی شب انڈیا نے پاکستان کے مختلف شہروں اور لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال حملے کیے جن میں فوج کے مطابق 26 نہتے شہری شہید اور 46 زخمی ہوئے، جب کہ پاک فوج نے جوابی کارروائی میں انڈین فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے اور ایک ڈرون مار گرایا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کو پریس بریفنگ کے دوران انڈین حملوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ احمد پور شرقیہ میں مسجد سبحان اللہ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 13 افراد شہید ہوئے، جن میں دو تین سالہ بچیاں، سات خواتین اور چار مرد شامل تھے، جب کہ 37 شہری زخمی ہوئے جن میں نو خواتین بھی شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق، مظفرآباد کے قریب مسجد بلال پر حملے میں تین شہری شہید، جب کہ ایک بچی اور ایک لڑکا زخمی ہوا۔ کوٹلی میں مسجد عباس کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 16 سالہ لڑکی اور 18 سالہ نوجوان جاں بحق ہوئے، جب کہ ان کی والدہ اور بہن زخمی ہوئیں۔
مریدکے میں مسجد ام القریٰ پر حملے میں تین افراد شہید اور ایک زخمی ہوا۔ سیالکوٹ میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جب کہ شکرگڑھ میں ایک ڈسپنسری کو نقصان پہنچا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر رات بھر جاری انڈین گولہ باری سے مزید پانچ شہری جاں بحق ہوئے، جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈین جارحیت کے چند لمحوں بعد ہی پاک فوج نے منہ توڑ اور بھرپور جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان نے حملوں کے فوری بعد جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ ان حملوں میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، ان کا ملکی و غیر ملکی میڈیا نے گزشتہ روز دورہ کیا تھا۔ انڈین الزامات کے برعکس وہاں کسی دہشت گردی یا عسکری سرگرمی کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ بدھ کے روز مریدکے اور بہاولپور کا دورہ بھی پہلے سے طے شدہ تھا جسے انڈیا کی جانب سے دانستہ نشانہ بنایا گیا۔
پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ جوابی کارروائی میں انڈیا کے پانچ جنگی طیارے اور ایک ہیرون ڈرون مار گرایا گیا۔ ان میں تین رافیل، ایک مگ 29، اور ایک سخوئی 30 شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ انڈین طیاروں کو جنرل ایریا بھٹنڈہ، جموں، اونتی پور، اکھنور اور سری نگر کے علاقوں میں مار گرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب ان طیاروں نے بلاجواز اشتعال انگیزی کے ذریعے پاکستانی حدود اور شہریوں کو نشانہ بنایا۔
ترجمان نے کہا کہ اگر پاکستان چاہتا تو انڈیا کے دس سے زائد طیارے مار گرائے جا سکتے تھے، لیکن ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ کوئی بھی انڈین طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور نہ ہی کسی پاکستانی طیارے نے انڈین فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس کے تمام اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھی سیز فائر کی خلاف ورزیاں کیں، جن کا پاکستان نے مؤثر اور دندان شکن جواب دیا، اور ان کی متعدد چوکیاں تباہ کیں۔