
عالمی عدالت انصاف نے سوڈان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے خلاف دائر کردہ نسل کشی کے مقدمے کو خارج کر دیا ہے۔ سوڈان نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہوئے امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سوڈان میں ہونے والی نسل کشی میں ملوث نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کی ہے۔ تاہم امارات نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا تھا۔
عدالت نےمقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس اس مقدمے کی سماعت کا اختیار نہیں ہے، کیونکہ امارات نے دو ہزار پانچ میں اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن پر دستخط کرتے اس دفعہ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جو ایک ملک کو دوسرے پر مقدمہ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ججوں کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ سوڈان کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ اس سے قبل امارات نے سوڈان پر الزام لگایا تھا کہ اس مقدمے کا مقصد سوڈان کی داخلی جنگ میں اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا ہے ۔
سوڈان نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ امارات کے خلاف ہنگامی اقدامات کرے تاکہ دارفور کے غیر عربی نسل کے مسالیت قبیلے کے خلاف جاری مظالم کو روکا جا سکے۔ تاہم، عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی ۔ عالمی عدالت انصاف نے سوڈان میں رونما ہونے والے انسانی المیے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اگرچہ عدالت نے مقدمہ خارج کر دیا ہے، لیکن سوڈانی حکام نے امارات کی آر ایس ایف کو مبینہ امداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون میں ریاستوں کے تحفظات اور عدالتوں کے دائرہ اختیار کے حوالے سے ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔