
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں انسداد پولیو کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری میں جانچ کے بعد پاکستان کے پاکستان کے 21 اضلاع سے لیے گئے سیوریج نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی۔ پاکستان کے کل 30 اضلاع سے جمع کیے گئے ماحولیاتی (سیوریج) کے 38 نمونوں کی جانچ کی گئی تھی جس میں سے 21 میں وائرس کی موجودگی پائی گئی۔
متاثرہ اضلاع میں بلوچستان کے لورالائی، کوئٹہ، ژوب، اسلام آباد، ایبٹ آباد، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، ٹانک، شمالی وزیرستان، لاہور، راولپنڈی؛ سندھ کے بدین، جامشورو، حیدرآباد، کشمور، کراچی (ایسٹ، ملیر، کورنگی، ساؤتھ) اور سکھر شامل ہیں۔
اس سال میں اب تک ملک بھر میں پولیو کے آٹھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے دو کیسز گزشتہ ماہ تین دن کے اندر سامنے آئے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اب ہائی ٹرانسمیشن سیزن میں داخل ہو چکا ہے، کیونکہ گرمیوں کے مہینوں میں وائرس کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے، جس سے آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں کیسز میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی مقامی سطح پر موجود ہے۔
ماہرین صحت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو مزید تیز کرے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔