پاکستانتازہ ترین

سی ایس ایس 2024: شرحِ کامیابی ایک بار پھر مایوس کن رہی

تحریری امتحان میں کامیابی کی شرح صرف 2.53 فیصد رہی، 15 ہزار 602 میں سے صرف 395 امیدوار کامیاب ہوئے۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس 2024 کے تحریری امتحانات کے نتائج جاری کر دیے، جن میں کامیابی کی شرح صرف 2.53 فیصد رہی، اور 15 ہزار 602 امیدواروں میں سے صرف 395 امیدوار کامیاب ہو سکے۔ اس نتیجے نے ایک بار پھر سی ایس ایس امتحان اور ملک کے تعلیمی نظام کی خامیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سی ایس ایس پاکستان کی اعلیٰ سول سروسز میں شمولیت کے لیے واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور ہر سال ہزاروں گریجویٹس اس امتحان میں قسمت آزماتے ہیں۔ رواں برس 23 ہزار 100 امیدواروں نے درخواست دی، تاہم حاضری اور کامیابی کے اعداد و شمار مایوس کن رہے۔ سال 2023 میں کامیابی کی شرح 2.96 فیصد، 2022 میں 1.96 فیصد اور 2020 میں 2.56 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل کم ٹرن آؤٹ کی اہم وجوہات میں انگریزی زبان پر کمزور گرفت، ناقص تیاری، رہنمائی کی کمی اور تعلیمی نصاب و امتحانی نظام کا آپس میں نہ ملنا شامل ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں معیار کا فرق، تنقیدی سوچ کا نہ ہونا اور تحقیق کی کمی نوجوانوں کے لیے بڑی رکاوٹیں بن رہی ہیں۔

کمیشن نے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں اگلے مراحل کے لیے اچھی تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ نتائج یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا سی ایس ایس کا امتحان واقعی میرٹ کا صحیح پیمانہ ہے یا یہ نظام کی ناکامی کو ظاہر کر رہا ہے۔ ان کے بقول، نوجوانوں کے لیے یہ امتحان اب صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جو ان کے خوابوں اور حقیقت کے درمیان گہری دوری پیدا کرتا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button