
مشترکہ مفادات کونسل نے دریائے سندھ سے مجوزہ نئی نہروں کی تعمیر کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے 52ویں اجلاس میں کیا گیا، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی وزرا اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور امیر مقام نے شرکت کی۔ اجلاس میں 25 افراد نے خصوصی دعوت پر بھی شرکت کی۔
کونسل نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ مستقبل میں کوئی بھی نیا نہری منصوبہ تب تک شروع نہیں ہوگا جب تک تمام صوبوں کی باہمی رضامندی حاصل نہ کر لی جائے۔
اجلاس میں پہلگام حملے کے بعد انڈٰیا کے یکطرفہ اقدامات کی مذمت بھی کی گئی، جب کہ زرعی اور آبی ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نے اجلاس میں واضح کیا کہ قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بین الصوبائی ہم آہنگی ہی ملکی استحکام کی بنیاد ہے۔
قبل ازیں 24 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے ملاقات کے بعد اعلان کیا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 2 مئی کو بلایا جائے گا اور تب تک کوئی نئی نہر نہیں بنائی جائے گی۔ تاہم، اس فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے اجلاس گزشتہ روز ہی منعقد کر لیا گیا۔