اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

انڈین سپریم کورٹ میں کشمیری شہری کی ڈیپورٹیشن روکنے کی درخواست

احمد طارق بٹ نے انڈین شہریت کی بنیاد پر جبری ملک بدری رکوانے کی اپیل دائر کی۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے رہائشی احمد طارق بٹ نے انڈین سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں خود اور اپنے خاندان کو پاکستان ڈیپورٹ کیے جانے کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق، بنگلور میں مقیم اُنہیں اور ان کے پانچ اہل خانہ کو سری نگر کے فارن رجسٹریشن آفس کی جانب سے نوٹس موصول ہوئے، جن میں انہیں پاکستانی شہری قرار دیا گیا، حالانکہ وہ انڈین شہریت رکھتے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ احمد اور ان کے اہل خانہ کے پاس انڈین پاسپورٹ اور آدھار کارڈ موجود ہیں، وہ سری نگر میں تعلیم یافتہ ہیں اور دہائیوں سے انڈیا میں مقیم ہیں۔

احمد کا کہنا ہے کہ ان کے والد، والدہ، بہن اور بھائی کو بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں لے کر انڈیا-پاکستان سرحد پر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں مبینہ طور پر زبردستی ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

درخواست میں عدالت سے فوری سماعت کی اپیل کی گئی ہے تاکہ زیرِ حراست اہل خانہ کو رہا کروایا جا سکے اور ڈیپورٹیشن کے نوٹس منسوخ کیے جا سکیں۔

احمد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انڈین حکومت کی جانب سے شہریت سے انکار اور جلاوطنی کے احکامات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ آئینی تحفظات کی بھی نفی کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست پر ابتدائی سماعت کی تاریخ تاحال مقرر نہیں کی گئی۔ احمد نے عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ ان کے خاندان کو ممکنہ ملک بدری سے بچایا جا سکے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button