
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز کا بعض کیسز میں ایسا رویہ ہے کہ ریفرنس بنایا جا سکتا ہے۔ایک انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر آپ ایسا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جس سے پورے ادارے کو بدنام کیا جائے تو اسے بدتمیزی سے جوڑا جا سکتا ہے، یہ معاملہ کابینہ میں کبھی زیر بحث نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دو جج کام نہیں کرنے دے رہے، ہر معاملے پر اختلاف کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں ایسے جج بیٹھے ہیں جنہوں نے ملک پر حکومت کی ہے، ان کے سامنے غریب سے لے کر ملک کے وزیراعظم تک کھڑے ہوتے تھے۔ وہ از خود نوٹس کے نام پر جس کو چاہتا اس کے سامنے کھڑا کر دیتا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ججز کے تقرر و تبادلے کے پرانے اصول کو تبدیل نہیں کیا، ججز کی تقرری اور تبادلے کا فارمولا جسٹس منصور علی شاہ نے خود دیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن نے عدالت میں 6 ججز کی عدالت کی درخواست دی تھی، تاہم منصور اور منصور منیب نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔