
لاہور ہائیکورٹ نے گھر اور گاڑیاں دھو کر پانی ضائع کرنے والوں پر 10 ہزار روپے جرمانے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔عدالت نے خلاف ورزی پر پٹرول پمپس کو ایک لاکھ روپے جرمانے کا حکم بھی دیا۔عدالت نے سی ٹی او لاہور کو رپورٹ پیش کرنے اور شہریوں کو کرکٹ ایونٹ سے متعلق آگاہ کرنے کا بھی حکم دیا۔آج واسا کے سینئر لیگل ایڈوائزر میاں عرفان اکرم کے ہمراہ لا افسران اور محکمہ ماحولیات سمیت دیگر محکموں کے افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت میں وکیل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ جی پی او چوک رکشوں سے بھرا ہوا ہے، وکلا کو گاڑیاں پارکنگ تک لے جانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ وکلاء کا اب یہ حال ہو گیا ہے کہ جو چاہے لے جائے، وکلاء کا ایسا حال پہلے کبھی نہیں ہوا۔عدالت نے کہا کہ جرمانے بڑھائیں سب سیدھا ہو جائے گا، پی ڈی ایم اے سو رہی ہے، محکمہ ماحولیات جاگ گیا، محکمہ ماحولیات کی منظوری کے بغیر پنجاب میں کوئی منصوبہ شروع نہیں ہوگا۔عدالت نے استفسار کیا کہ ٹریفک افسران کہاں ہیں؟ کرکٹ میچ شروع ہونے کو ہیں، لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں۔پولیس کیا کر رہی ہے؟ لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ ٹیموں کی آمد و رفت کس وقت ہے؟عدالت نے کہا کہ یہاں پر مسائل کے متبادل روٹس کی بورڈنگ کی جائے، دو تین ماہ سے پہلے پتہ چلتا ہے کہ آپس ٹرافی چاہتے ہیں، یہ دفتر سے باہر نکلتے نہیں ہیں۔