
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی نئے الیکشن کی بات کرتے ہیں اور ہم کہتے ہیں نئے الیکشن نہیں پہلے فارم 47 کی بات کریں۔اپنے ایک بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 8 فروری قوم کی تاریخ کا بدترین دن ہے جس میں دھاندلی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ 2018 میں بھی دھاندلی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ڈھائی ہزار ووٹ لینے والوں کو ایک لاکھ ووٹ دئیے گئے۔ مہنگائی پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے لیکن وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے، ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے اپنی تنخواہیں بڑھا دیں۔ وہ موجودہ اصولوں کو ٹھیک دیتے ہیں اور انہیں دکھاتے ہیں جہاں اختلاف ہے۔امیرجماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ہے، اگر سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ہے تو پھر کس بات پر بات کر رہے ہیں۔ کسی نے 35 سال لوٹ مار کی تو 35 سال کا حساب دو، کسی نے ساڑھے 3 سال حکومت کی تو اس کا حساب دینا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی نہیں پی ڈی ایم کی حکومت ہے، کے پی میں صرف پی ٹی آئی کی حکومت ہے باقی ہر جگہ پی ڈی ایم ہے، ہم سندھ میں احتجاج کرنے والے اساتذہ کے ساتھ ہیں۔