
امریکا طیارہ حادثہ، ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور میں اسٹاف کمی کا شکار تھا
امریکا میں فوجی طیارے کے مسافر طیارے سے ٹکرانے کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ رونالڈ ریگن ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور میں عملہ کی کمی تھی۔اس کے علاوہ مسافر طیارے کے پائلٹ کو آخری لمحات میں رن وے تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی، پائلٹس نے تعمیل کی، جس پر کنٹرولر نے کلیئرنس دی اور طیارے کو چھوٹے رن وے کی طرف موڑ دیا گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق حادثے کے وقت معلومات واضح تھیں۔ حادثے سے تیس سیکنڈ قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر نے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے پوچھا کہ کیا وہ مسافر طیارے کو آتے ہوئے دیکھ سکتا ہے، جس کے بعد ہیلی کاپٹر کو ٹیک آف کرنے کی ہدایت کی گئی۔ پہلے مسافر طیارے کو گزرنے دیں پھر آگے بڑھیں۔ان ہدایات پر ایئر کنٹرولر کو ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا اور چند سیکنڈ ہی گزرے جب ہیلی کاپٹر امریکن ایئرلائنز سے ٹکرا گیا۔یہ بھی انکشاف ہوا کہ طیارے کے ریڈیو ٹرانسپونڈر نے رن وے سے تقریباً چوبیس سو فٹ کی دوری سے ترسیل روک دی، طیارہ دریائے پوٹومیک کے بیچ میں تھا۔طیارہ حادثے کے بعد ایئرپورٹ کے عملے کی کارکردگی پر اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں کیونکہ ایک روز قبل اسی ایئرپورٹ پر ایک اور طیارے کو لینڈنگ سے روکنا پڑا تھا۔حادثے کا شکار امریکن ایئرلائنز میں سوار تمام 60 مسافروں اور عملے کے چار ارکان کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جن میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں سوار عملے کے تین ارکان بھی شامل ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی پر واشنگٹن فضائی حادثے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔