
آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ تک جاری رہا جس میں 4 بلوں کی منظوری دی گئی جبکہ 4 تاخیر کا شکار ہوئے۔مشترکہ اجلاس میں تجارتی انتظامات ترمیمی بل 2021 کی منظوری دی گئی جب کہ درآمدات اور برآمدات کے ضوابط ترمیمی بل کی بھی منظوری دی گئی۔مشترکہ اجلاس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بل 2024 اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایکسی لینس بل 2024 کی بھی منظوری دی گئی۔اس کے علاوہ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023 موخر کر دیا گیا جبکہ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023 کو موخر کر دیا گیا۔این ایف سی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان ترمیمی بل 2023 اور نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل 2023 بھی موخر کر دیا گیا۔دوسری جانب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے احتجاج کے باعث آج ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا، قائد حزب اختلاف نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی درخواست کی تاہم سپیکر نے قائد حزب اختلاف کو بولنے کی اجازت نہیں دی اپوزیشن ارکان کے احتجاج اور شور شرابے کے باوجود سپیکر نے ایوان کی کارروائی جاری رکھی اور ایجنڈے پر حکومتی قانون سازی کا عمل جاری رکھا۔واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی ہدایت پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب کیا ہے۔