
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات ختم کرنے پر ردعمل میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے تھوڑی عجلت سے کام لیا ہے۔عطا اللہ تارڑ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا جواب پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے مطالبات کے جواب میں آنا تھا۔انہوں نے کہا کہ کمیشن بنانا ضروری نہیں، کمیشن کے بجائے کمیٹی بنانے پر درمیانی راستہ سوچا جا رہا تھا، پی ٹی آئی نے تھوڑی عجلت سے کام کیا، تھوڑی جلد بازی کی۔عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کو یہ سوچنے کا کوئی جواز مل جاتا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، انہوں نے بدنیتی پر مبنی جلد بازی میں فیصلہ کیا، بغیر وجہ مذاکرات ختم کیے، آخری تاریخ تک جواب کا انتظار کرنا ضروری تھا۔ اب ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حامد رضا کے گھر یا مدرسے پر چھاپے پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے رابطہ کیا جائے گا، 190 ملین پاؤنڈ کیس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سمت موڑی جارہی ہے۔چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کو 7 دن میں کمیشن بنانا تھا لیکن اب تک حکومت نے 9 مئی اور 26 نومبر کو جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا اس لیے وہ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔