
خیبرپختونخوا کے عوام صوبائی حکومت پر بھڑک اٹھے، گنڈا پور پر نااہلی اور ان کی حکومت پر صوبے کے حالات خراب کرنے کا الزام لگایا۔وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کی جانب سے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قبائلی عمائدین کا جرگہ بھیجنے کے اعلان پر خیبرپختونخوا کے عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت انفراسٹرکچر فراہم کرے،عوام کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ صوبے میں بے روزگاری دن بدن بڑھ رہی ہے اور اس کا براہ راست عوام کی زندگیوں پر اثر پڑ رہا ہے۔ کے پی کے حکومت سے ناراض عوام کا مزید کہنا تھا کہ جب سے یہ صوبائی حکومت آئی ہے یہ لوگ ہمیشہ ایسے کام کرتے ہیں جو ان کے بس میں نہیں اور اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جب سے موجودہ حکومت خیبرپختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو چکا ہے۔ یہاں تعلیم نہیں ہے۔روزگار نہیں، لوگوں کو بدامنی کا سامنا ہے۔ ضرورت تھی کہ یہ لوگ تعلیم کے لیے کام کرتے، صوبے میں امن کے لیے اقدامات کرتے۔ انہیں روزگار فراہم کرنا چاہیے تھا کیونکہ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔عوام کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت وہ کام کرے جو ان کے اختیار میں ہے، وہ کام نہیں جو وفاقی حکومت کے اختیار میں ہے کیونکہ وہ نہیں کر سکتی۔ صوبے کو تباہ کیا جا رہا ہے اور حکومت وفاق کی بات کر رہی ہے۔ ایسا نہ کریں اور عوام کو دھوکہ نہ دیں۔شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ حکومت جرگہ نہیں اور جرگہ حکومت کا کام نہیں ہے۔ حکومت اپنے عوام کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ ہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے اپنے لوگوں خصوصاً قبائلی عوام کے بارے میں سوچیں۔لوگوں کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو لوگ صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ہم اکثر خلیجی ممالک میں ملازمت کے لیے جاتے ہیں۔ ہم وزیر اعلیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ جو مذاکرات ہو رہے ہیں وہ ان لوگوں کو کرنے دیں جن کا کام ہے۔ آپ کا کام صحت، روزگار اور تعلیم دینا ہے اور آپ اپنے لوگوں کو دیتے ہیں۔ کبھی ہم ایک جگہ کام تلاش کرتے ہیں اور کبھی دوسری جگہ