
وفاقی حکومت کی جانب سے سبسڈی بند کرنے کے بعد یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے آپریشنز بند کردیے گئے اور اثاثے اور جائیداد کو حفاظتی تحویل میں لینے کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے آپریشنز بند کرنے کا عمل شروع کرتے ہوئے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دے دی جب کہ اثاثے اور جائیدادیں بھی حفاظتی تحویل میں لینے کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے سبسڈی بند کرنے کے بعد یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے آپریشنز بند کردیے گئے اور اثاثے اور جائیداد کو حفاظتی تحویل میں لینے کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے آپریشنز بند کرنے کا عمل شروع کرتے ہوئے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دے دی جب کہ اثاثے اور جائیدادیں بھی حفاظتی تحویل میں لینے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے کمیٹی کے لیے ٹی او آرز کا فیصلہ کیا ہے جب کہ یہی 7 رکنی کمیٹی اسٹورز کی فوری بندش کا طریقہ کار بھی طے کرے گی، کمیٹی پراپرٹی، اثاثوں اور دیکھ بھال کے انتظامات بھی کرے گی۔ کارپوریشن تعین کرے گا.ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 7 رکنی کمیٹی کارپوریشن کے ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کرنے کے انتظامات کا جائزہ لے گی اور دیگر سرکاری اداروں میں ملازمین کے انضمام کا بھی جائزہ لے گی۔کمیٹی رمضان پیکج کی فراہمی کے لیے بی آئی ایس پی کے ساتھ تعاون کے لیے حکمت عملی تیار کرے گی۔وزارت صنعت و پیداوار اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کے لیے سیکریٹریل معاونت فراہم کرے گی، کمیٹی 7 روز میں اپنی رپورٹ وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے اگست 2024 میں وزیراعظم ریلیف پیکج کے تحت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو دی جانے والی سبسڈی روک دی تھی۔