
غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد صبح ساڑھے 11 بجے ہوگا
غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد مقامی وقت کے مطابق صبح 8:30 بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11:30 بجے شروع ہوگا۔اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کے بدلے حماس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حماس رہائی پانے والے یرغمالیوں کی فہرست فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا، حماس نے معاہدے پر عمل نہ کیا تو اسرائیل کو دوبارہ جنگ میں جانے کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گا۔ اگر حماس معاہدے پر عمل نہیں کرتی تو اسرائیل کو دوبارہ جنگ میں جانے کا حق حاصل ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ٹرمپ اور جو بائیڈن نے اسرائیل کے دوبارہ جنگ کے حق کو تسلیم کر لیا ہے۔ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ہم نئے طریقوں سے اور زیادہ طاقت کے ساتھ لڑیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ہم اپنے 157 یرغمالیوں کو واپس لائے ہیں جن میں سے 117 زندہ ہیں، ہم مزید 33 یرغمالیوں کو واپس لائیں گے جن میں سے بیشتر زندہ ہیں۔نیتن یاہو نے کہا، "ہم نے مشرق وسطیٰ کا چہرہ بدل دیا ہے، حماس کو شکست دی اور الگ تھلگ کر دیا، ہم نے احمد سنوار، الضعیف اور اسماعیل ہنیہ کو ختم کر دیا، ہم نے حسن نصر اللہ اور حزب اللہ کی پوری اعلیٰ قیادت کو بھی ختم کر دیا۔” کیا کیااسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے شامی فوج کے بیشتر ہتھیاروں کو تباہ کر دیا، یمن میں حوثیوں کو منہ توڑ جواب دیا اور ایران کے خلاف براہ راست کارروائی کی، حماس کی عسکری اور حکومتی صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔