
کرم کے علاقے بگن میں پاراچنار جانے والے گاڑیوں کے قافلے پر ہونے والے 2 سیور ٹی اعتماد 4 ڈرائیور شہید اور 5 اہلکار زخمی بھی کارروائی کرتے ہوئے 6 حملہ آور اور 10 زخمی ہوئے جبکہ 5 ڈرائیور تاحال لاپتہ ہیں۔ ۔پولیس کے مطابق گزشتہ روز کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم افراد نے پاراچنار جانے والے گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا، ان پر حملہ کرنے والے 2 اہلکار اور 4 ڈرائیور شہید جبکہ 5 حملہ آور زخمیضلعی پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں 6 حملہ آور مارے جبکہ 10 زخمی۔دوسری طرف لوئر کرم کے علاقے میں اڑ والی سے 4 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیںپولیس کے مطابق یہ لاپتہ ہونے والے ڈرائیور کو منتقل کر دیتے ہیں، لاشوں کو لوئر کرم علی زئی ہسپتال منتقل کر دیتے ہیں۔تاجر حاجی امداد کے مطابق 3 ڈرائیورز تاحال لاپتہ ہیں جبکہ 35 ٹرکوں میں سامان سے صرف 2 ٹرک واپس کرنے کے لیے، 10 ٹرکوں کو دینے کے بعد جلا دیا گیا جبکہ 30 سے زائد ٹرکوں میں اربوں روپے کا سامان ملا۔گرینڈ جرگہ کے خلاف پارلیمنٹ کے مطابق امن معاہدے کی بار بار پوچھنے والے ذمہ داروں کو سامنے رکھیں گے، بگن سے امن کی کوششوں کو دھچکا لگا۔جرگہ پارلیمنٹ کے راستوں کی بندش اور انتہائی مطلوبہ کے مطابق۔ ضلعی کے مطابق قیام امن کے لیے اقدامات جاری ہیں۔سابق وزیر اعظم ساجد کا کہنا ہے کہ لوکل آبادی گاڑی پر حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے، بار بار کانوائے اور مسافر کو برداشت نہ ہونے پر، کانوائے پر آپ کے جوابی کاروائی سے مطمئن ہیں۔جلال بنگش کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی کے لیے حکومت کو 3 روز دیے گئے ہیں، قانون کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو پھر کوئی گلہ نہیں۔کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی حکومت کا منظر غائب اور اس سے متعلق اب تک کوئی سامنے نہیں آیا۔