
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ فیصلہ کرنے والے غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا سہرا عوام اور اُن کی مزاحمت کے نام کا اعلان کیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ساتھ فیصلہ ہونے والے معاہدے پر حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کو آزادی کے لیے اسرائیل کے ساتھ جنگ کا معاہدہ عوام کی ‘استقامت’ اور اس کی ‘استقامت’ کا نتیجہ ہے۔ ۔ترجمے نے کہا کہ ’’جنگ بندی کا معاہدہ ہمارے عظیم عوام کی ثابت قدمی اور غزہ کی پٹی میں 15 ماہ سے طویل عرصے تک دلیرانہ مزاحمت کا نتیجہ ہے‘‘۔حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ، جلسوں کا جشن7 اکتوبر 2023 سے جاری بربریت کے نتیجے میں 46 ہزار شہداء اور ایک لاکھ زخمی ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’معاہدے کے بعد عوامی امنگوں کے مطابق فلسطین کی آزادی کی راہ ہموار ہوئی‘‘۔خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے حماس کے رہنما سامی ابو زہری نے جنگ بندی کو اہم قرار دے دیا اور کہا کہ اس بات کا اظہار ہے کہ زمینی فوج اپنے کسی بھی کردار کو حاصل کرنے میں ناکام رہی۔قطر کے دوحہ میں واقع پریس کانفرنس میں محمد بن عبدالرحمان ال ثانی نے حماس اور اسرائیل کے غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا اور بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قطر، مصر، امریکہ کی مشترکہ طور پر تنازعہ قبل ازیں تنازعہ کے تنازعات پر متفقہ نتیجہ نکلا۔ !انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے لیے قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ میں امداد پہنچائی جائے جبکہ اسرائیل حکومت کو قدم اٹھائے۔قطری شراکت دار نے کہا کہ 19 بروز اتوار کو ایک روز پہلے مرحلے 2 پر محیط سے اور اسرائیل جنوری کے غزہ کے علاقے سے سرحد پر واپسی پر قیدیوں اور لاشوں کا تبادلہ، زخمیوں اور پولیس اہلکاروں نے کہا۔ کو باہر جانے کی اجازت دینے والے نے بتایا کہ انسانی بنیاد پر پرپورے غرہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ بے گھر افراد کی واپسی اور ان کی بقا کے لیے امداد فراہم کی جاتی ہے۔قطری بازوں نے کہا کہ پہلے حماس میں 33 قیدیوں کو رکھا جائے گا، جن میں خواتین، فوجیں شامل ہیں، اس کے بدلے میں اسرائیل کی قید میں موجود لوگوں کی تعداد میں ایک مخصوص جگہ بھی موجود ہے۔’’دوسرے کے طور پر عمل کرنے اور کی تفیصلات مکمل کرنے پر دونوں فریقین کو مکمل طور پر تین مراحل پر بتدریج کرنا اور مزید خون ریزی اور جنگ سے گریز کرنا چاہیے‘‘۔انہوں نے کہا کہ قطر مصر امریکہ کے ساتھ مل کر معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائے گا تاکہ دونوں فریقین معاہدے پر مکمل طور پر عمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر غزہ کے خاندانوں کی واپسی، بے امنی اور غزہ کے لوگوں کے لیے تمام تر کوششیں جاری ہیں۔معاہدے کے اہم نکاتمعاہدے کے تحت ابتدائی طور پر 6 قیدیوں کے ساتھ جنگ بندی کے بدلے جب کہ اس کی پٹی سے اسرائیل کی طرف سے واپسی پر اسرائیل کی جانب سے حماس کی زیرحراست موجود تحریروں کو شامل کیا گیا۔پہلے مرحلے میں 3 قیدیوں کی رہائی، جس میں تمام خواتین، بچے اور 50 سال بڑی عمر کے افراد میں شامل ہوں۔ آسمانی فوج غزہ کی سرحد کے اندر 700 میٹر تک خود کو محدود کرے اسرائیل عمیر قید کے 250 افراد کو تقریباً 2000 قیدیوں کو رہا کرے گا۔