
افغانستان نے پاکستان میں فضائی کارروائی کو درست کرتے ہوئے خوارج کے ٹھکانوں کو کابل استعمال کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو اہم کمانڈرز نے 71 سے زائدخوارج ہلاک کردیئے خودکش جیکٹ کی یقین دہانی کرائی۔ اہم بندر تباہپاکستان سیکیورٹی مفادات کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے ٹھکانوں کی آبادی مکمل طور پر افغان طالبان کو بہتر تحفظ کے لیے وعدہ پورا کرنا ہے۔افغان وزارت دفاع نے کہا ہے کہ 46 سویلین مارے گئے، پاکستان کی کارروائی کا جواب دیا جائے گا، دوسری افغان وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرنے والے احتجاجی مراسلہ بیان کیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سیکورٹی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اس کے خلاف پھر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے ایک بار پھر پاکستان خوارج کے راستے پر درستگی کے ساتھ ساتھ فضا میں کھڑے ہیں۔ان کارروائیوں میں 71؍ سے زائد خوارج مارے گئے ہیں، جن میں کئی اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ خوارج کے چار اہم مراکز تباہ کر گئے، جن میں ایک خودکش جیکٹ بنانے والی اور ان کا ’عمر میڈیا سیل‘ بھی شامل ہے۔ایک خاتون افسر نے کہا کہ ’’یہ پاکستان سرحد پار کارروائی نہیں کرتا۔ ماضی میں بھی پاکستان نے افغانستان میں ڈرون امریکہ خوارج کو بھاری نقصان پہنچایا۔اس وقت افغان طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان سرزمین سے پاکستان پر کوئی حملہ نہیں کرسکتا۔ لیکن افسوس کہ افغان طالبان اپنے وعدے ناکام کرنے میں ناکام رہے ہیں، وہ قطر معاہدے سے بھی منحرف ہو رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان پاکستان اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے وعدے سے تعبیر کرنے کا کہا جائے گا اور خوارج کارروائیوں کے افسروں کو پکڑوں گا۔ پاکستان ان طاقتوں کے ٹھکانوں کو بناتا رہے گا، یہاں تک کہ یہ ختم ہو جائے گا۔اس کے بعد سامنے آنے والی بدحواسی اور آڈیو سے یہ ہوتا ہے کہ خوارج کی شکار شکاری اور ایک دوسرے کو پکڑنے والے کا شکار کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ مقامی آبادی کی مدد نہیں کر رہے ہیں۔اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ آپ کے پاس انتہائی درستگی کے ساتھ چلے گئے ہیں، جس سے عام لوگ یا مقامی آبادی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ سیکورٹی فورسز نے کہا کہ یہ پاکستان دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔اگرچہ ہم نے اپنے جوانوں کا بدلہ لیا، لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہم خوارج کو ان کے آخری ٹھکانے تک پہنچائیں گے، وہ بھی چھپے ہوں گے۔سیکیورٹی کنٹرول نے اس کے نمائندے کو بتایا کہ افغان اور ہندوستانی میڈیا اکاؤنٹس ان بچوں کی تصاویر استعمال کر رہے ہیں جو 2023ء میں افغانستان کے زلزلے میں ہلاک ہو گئے تھے، تاکہ پاکستان کی طاقت سے گزشتہ روز کی کارروائیوں سے جانی نقصان ہو سکے۔ پیش کیا جالائسنس کے مطابق یہ اکاؤنٹس اپنی شرمندگی اور شکست کو چھپانے کے لیے لکھے گئے افسانے لکھ رہے ہیں تاکہ عوامی رائے پر اثر ڈالیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ خودکش تربیتی مشقوں پر حملہ، اور عمر میڈیا کے دفاتر کو مختلف معتبر کی انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر بنایا گیا۔اس کے لیے صرف ٹھکانوں کو گرد خارج کیا گیا، جبکہ ارد کی آبادی، مساجد اور دینی مدارس، جہاں ان کی موجودگی کے بارے میں بھی معلوم تھا، اسے مکمل محفوظ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی کے خلاف دوسرے پروپیگنڈہ مہمات ماضی میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے اور مستقبل میں ہی میں چلا جاتا ہوں۔حقیقت میں ان بھارتی اثاثوں کی تباہی نے بھارت کو غیر متناسب نقصان پہنچایا ہے، جس سے وہ ہمیشہ اس طرح ایک بار پھر غلط معلومات پر پابندی پر مجبور ہو گیا ہے۔ استحکام نے تصدیق کی کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج کے چار بڑے خارجی راستے تباہ ہوئے ہیں جن میں شیر زمان عرف مخلص یار، اختر محمد عرف خلیل، اظہار عرف حمزہ اور شعیب چیمہ شامل ہیں۔اس مرکز کے لیے محفوظ مقامات کے علاوہ انتظامی وصرام کے سلسلے میں کلیدی امن قائم کرنے والے تھے ۔ادھر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ نے بتایا کہ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی ان کی جگہ ان پاکستان ضلع برمل۔ چار پر بمباریانہوں نے کہا کہ مرنے والے کی کل تعداد 46 ہے۔ طالبان کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے صدر نے جواب میں کہا کہ وہ اپنے سرزمین اور خود مختاری کے دفاع کو ناکام بنا رہے ہیں۔دوسری جانب وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘کابل میں پاکستانی دفتر کے ناظم الامور کو طلب کرنے کے لیے افغانستان کے جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ضلع برمل ڈیورنڈ لائن کے قریب پاکستانی فوجی طیاروں کی بمباری پر حملہ آور ہیں۔ ہڑتالی احتجاجی مراسلہ بیان کے مطابق پاکستانی طیاروں کی جانب سے افغانستان کی طرف سے زمینی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔