’’فوج کی سیاست میں مداخلت غیرآئینی ہے‘‘، آرمی چیف 66

آئین پاکستان میں آرمی چیف کی تعیناتی کا طریقہ کار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)رواں ماہ کی 29 تاریخ کو پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں، اور ان کی ريٹائرمنٹ سے قبل حکومت نے نئے آرمی چیف کے تقرر کا اعلان کرنا ہے۔پاکستان میں اہم ترین سمجھے جانے والے عہدے کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 243 میں بہت مختصر بلکہ چند سطروں پر مشتمل طریقہ کار درج ہے۔آئین کے آرٹیکل 243 کی شق 3 کے مطابق ملک کے وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کريں گے۔آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم آفس خط لکھ کر وزارت دفاع سے سمری منگواتا ہے، اور وزارت دفاع آرمی چیف سے سينئر ترين جرنيلوں کی فہرست مانگتی ہے، اور سبکدوش ہونے والے آرمی چیف وزیراعظم کو سینیئر ترین جرنیلوں کی ایک فہرست دیں گے۔حکومتی رولز آف بزنس کے مطابق کسی بھی سرکاری تعیناتی کے لیے اگر ایک عہدہ خالی ہو تو تین نام بھیجے جاتے ہیں اور اگر دو تعیناتیاں کرنی ہوں تو پانچ نام بھیجے جاتے ہیں۔اس وقت پاکستان میں آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے دو عہدے خالی ہونے ہیں تو توقع ہے کہ آرمی چیف پانچ نام وزارت دفاع کے ذریعے وزیراعظم کو بھیجیں گے۔ ان میں سے دو عہدوں کے لیے وزیر اعظم دو لیفٹیننٹ جنرلز کو پروموٹ کرکے جنرل بنا دیں گے اور انہیں آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات کرنے کی سفارش صدر کو بھیجیں گے۔وزیراعظم کو ملنے والی فہرست میں سے آرمی چیف کے امیدوار کا انتخاب ہوگا اور صدر پاکستان کو وہ نام منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ صدر کی منظوری کے بعد آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے تقرر کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا جائے گا۔عسکری ماہرین کے مطابق وزیراعظم کو بھیجے گئے ناموں کی فہرست کے ساتھ ہر افسر کی سروس فائل بھی ہوتی ہے جس میں اس کی ماضی کی خدمات کا ذکر ہوتا ہے۔افسر کی سینیارٹی کا تعین اس کے کمیشن حاصل کرنے کی تاریخ سے کیا جاتا ہے اور ساری زندگی کے لیے وہی تاریخ اس کی سینیارٹی متعین کر دیتی ہے۔آرمی چیف کو 5 اہل افراد کی لسٹ سینیارٹی کی ترتیب سے بھیجنا ہوتی ہے تاہم روایتی طور پر آرمی چیف کے عہدے کے لیے تعینات ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ فائٹنگ کور سے ہو اور اس نے ایک سال تک کسی کور کی کمان بھی کی ہو، متعلقہ افسر اس وقت آرمی کا یونیفارمڈ آفیسر ہو اور اس نے مدت ملازمت میں توسیع نہ لے رکھی ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں