
لندن: نیٹ فلکس کے نئے سیزن ‘وِد لو، میگھن’ میں ڈچس آف سسیکس، میگھن مارکل نے ایک دل چسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے شوہر، پرنس ہیری کو لابسٹر بالکل پسند نہیں۔ مشہور شیف خوسے آندریس کے سامنے بات کرتے ہوئے میگھن نے ہنستے ہوئے یہ راز فاش کیا، جس پر شیف نے بھی مزاحیہ انداز میں کہا، "اور آپ نے پھر بھی ان سے شادی کر لی؟”
یہ بات صرف مذاق تک محدود نہیں، بلکہ شاہی خاندان کی خوراک سے جڑی سخت روایات اور اصول برسوں سے چلے آ رہے ہیں۔
سابق شاہی بٹلر گرانٹ ہیروڈ کے مطابق شاہی خاندان عمومی طور پر شیل فِش (جیسے جھینگا، کیکڑا، لابسٹر) سے پرہیز کرتا ہے، کیونکہ ان سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح لہسن کو بھی شاہی کھانوں سے دور رکھا جاتا ہے تاکہ سانس کی ناخوشگوار بو سے بچا جا سکے۔ خود ملکہ کمیلا نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ "گارلک شاہی میز پر ممنوع ہے۔”
اخلاقی اصول بھی شاہی ذوق پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ موجودہ بادشاہ، چارلس سوم نے فوئی گراس (بطخ کے جگر سے بنی مشہور فرانسیسی ڈش) پر شاہی محلوں میں مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔
شاہی خاندان میں چائے کا رواج تو پرانا ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ چائے میں چینی نہیں ڈالتے۔ گرانٹ ہیروڈ کے مطابق، "میں نے کبھی کسی رائل کو چائے میں چینی ملاتے نہیں دیکھا۔” بادشاہ چارلس شہد کو ترجیح دیتے ہیں، اور وہ اپنے دیہی گھر ہائی گروو میں خود شہد کی مکھیاں پالتے ہیں۔
بادشاہ چارلس کو چاکلیٹ زیادہ پسند نہیں۔ وہ ہلکی بیکری آئٹمز جیسے کیلا بریڈ یا چائے کی کیک اور تازہ پھلوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
مرحومہ ملکہ الزبتھ دوم کی غذا بھی خاصی سادہ اور متوازن ہوا کرتی تھی۔ وہ اپنی صحت کا خاص خیال رکھتی تھیں اور پاستا، بریڈ اور آلو جیسے بھاری کھانوں سے پرہیز کرتی تھیں۔ ان کا روزمرہ کھانا عموماً سبزیوں کے ساتھ مچھلی یا چکن پر مشتمل ہوتا تاکہ مصروف دن میں توانائی برقرار رہے۔
شاہی خاندان عموماً کچا یا نیم پکا گوشت کھانے سے بھی گریز کرتا، تاکہ کسی قسم کی بیکٹیریا یا فوڈ پوائزننگ کے خطرے سے محفوظ رہیں۔
یوں برطانوی شاہی خاندان کے کھانے پینے کے اصول صرف ذائقے پر نہیں بلکہ صحت، اخلاق اور شاہی آداب پر مبنی ہیں، جو انہیں عام لوگوں سے منفرد بناتے ہیں۔