
لاہور: ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا ہے کہ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کا مقام "پیک” پکڑ رہا ہے، اور اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم اور خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی صورتحال شدت اختیار کر رہی ہے اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ:
"یکم ستمبر کو سات لاکھ کیوسک پانی ہیڈ تریموں پر پہنچے گا، راوی اور چناب کا پانی ہیڈ شیر شاہ اور ہیڈ سلیمانی میں داخل ہو چکا ہے، اور 4 ستمبر کو یہ تمام پانی ہیڈ پنجند میں داخل ہوگا۔”
صوبے میں 2200 دیہات متاثر، 33 ہلاکتیں
ڈی جی نے بتایا کہ پنجاب کو اس وقت ایک تاریخی سیلاب کا سامنا ہے۔
اب تک 2200 دیہات متاثر ہو چکے ہیں اور 33 افراد سیلابی صورتحال کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ مون سون کے نویں اسپیل نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور اربن فلڈنگ نے حالات مزید بگاڑ دیے ہیں۔
20 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں جنہیں خوراک، رہائش، اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ریسکیو، پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ سرگرم
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق:
ریسکیو ٹیموں اور پاک فوج نے متحرک کردار ادا کیا ہے
متاثرہ علاقوں میں مویشیوں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا
وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر انسانی جانوں کی ہر ممکن حفاظت کو ترجیح دی جا رہی ہے
ضلعی انتظامیہ دریاؤں پر مسلسل موجود ہے اور لمحہ بہ لمحہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے
ستلج میں کمی، مگر خطرہ برقرار
ڈی جی کاٹھیا نے بتایا کہ ستلج کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہوا ہے:
ہیڈ سلیمانی پر 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک
بہاولپور کے قریب دریاؤں میں 1 لاکھ کیوسک
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر اگلے 6 سے 7 دن پانی کی سطح میں کمی واقع ہوئی تو مزید متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل تیز کیا جا سکے گا۔
حکام کی ترجیح زیرِ آب علاقوں کو کلیئر کرنا اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے۔