
چاکلیٹ کا جادو: ذائقے اور خوشبو میں بیکٹیریا کا چھپا ہوا کمال
اسلام آباد: دنیا بھر میں چاکلیٹ کا شمار سب سے مقبول اور پسندیدہ میٹھے میں ہوتا ہے، مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ چاکلیٹ کا وہ خاص ذائقہ اور خوشبو قدرتی طور پر نہیں آتی بلکہ اس میں بیکٹیریا کا اہم کردار ہوتا ہے۔
تازہ کوکوا بینز کا ذائقہ دراصل کڑوا اور بے مزہ ہوتا ہے۔ اس کو خوش ذائقہ اور خوشبودار بنانے کے لیے ایک خاص قدرتی عمل، جسے فرمینٹیشن (خمیر کاری) کہا جاتا ہے، انجام دیا جاتا ہے — اور یہی مرحلہ چاکلیٹ کے "جادو” کی بنیاد ہے۔
فرمینٹیشن کا حیرت انگیز عمل:
پہلا مرحلہ:
بینز کو گودے سمیت لکڑی کے ڈبوں یا کھلے ڈھیر میں جمع کیا جاتا ہے، جہاں قدرتی خمیر (yeast) سب سے پہلے شوگر کو الکوحل میں تبدیل کرتے ہیں۔
دوسرا مرحلہ:
لیکٹک ایسڈ بیکٹیریا آتے ہیں، جو مزید شوگر کو لیکٹک ایسڈ میں بدلتے ہیں۔ اس سے درجہ حرارت بڑھتا ہے اور ماحول تیزابی بن جاتا ہے۔
تیسرا مرحلہ:
پھر آتے ہیں ایسیٹک ایسڈ بیکٹیریا جو الکوحل کو سرکہ تیزاب (acetic acid) میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس کیمیائی تبدیلی سے درجہ حرارت 45–50°C تک پہنچ جاتا ہے۔
ذائقے کی تشکیل کیسے ہوتی ہے؟
اس گرم، تیزابی ماحول میں کوکوا بینز کے خلیے مر جاتے ہیں اور اندرونی اینزائمز فعال ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب پروٹین، خوشبو دار مرکبات، اور ذائقہ بننا شروع ہوتا ہے۔
اگر یہ عمل موزوں حد تک ہو تو چاکلیٹ میں وہی بہترین ذائقہ اور مہک آتی ہے جسے لوگ پسند کرتے ہیں۔ لیکن اگر خمیر کاری بہت کم یا زیادہ ہو جائے، تو ذائقہ خراب ہو سکتا ہے۔