
نئی دہلی / نیویارک: بھارت کی میزبانی میں نومبر میں ہونے والی کواڈ سربراہی کانفرنس میں امریکی صدر کی شرکت مشکوک ہو گئی ہے، جس سے بھارت کی عالمی سطح پر تنہائی مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور بھارتی جریدے بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹس کے مطابق، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فی الحال دہلی کا کوئی دورہ شیڈول نہیں، حالانکہ ابتدائی دعوت پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی تھی۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی پر امریکی ثالثی کی پیشکش اور بھارت کی طرف سے مسلسل انکار نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں دراڑ ڈال دی۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مصری کے مطابق، وزیراعظم مودی نے واضح طور پر کسی بھی قسم کی ثالثی کو مسترد کر دیا تھا، جس پر امریکی صدر نے ناراضی کا اظہار کیا۔
تعلقات میں تناؤ کی وجوہات:
ٹرمپ کا بارہا پاک بھارت جنگ بندی کے دعوے
روس سے تیل کی خریداری پر بھارت پر 25 فیصد ٹیرف
ثالثی کے امکان کو مودی حکومت کا سختی سے رد کرنا
ٹرمپ کی جانب سے نوبل امن انعام میں عدم دلچسپی اور ثالثی پر اصرار
پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مؤثر
امریکی صدر کی جانب سے بارہا جنگ بندی اور ثالثی کی باتیں کرنا، پاکستان کے سفارتی مؤقف کی تائید تصور کی جا رہی ہیں، جو دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر اور خطے میں امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔
بھارتی سفارتی ناکامی پر تبصرے
بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق، بھارت کو "سزا” دینے کے لیے امریکا کی جانب سے بھاری تجارتی ٹیرف عائد کیے گئے ہیں کیونکہ مودی سرکار امریکی پالیسی کے مطابق چلنے سے گریزاں ہے۔ ٹرمپ نے بار بار مودی کی ہٹ دھرمی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔