
این ڈی ایم اے (قومی آفات انتظامیہ) نے حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق اور 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حالانکہ قدرتی آفات نے سنگین نقصانات پہنچائے ہیں، لیکن امدادی ادارے، حکومتی ٹیمیں اور عوامی حمایت کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جانی نقصانات اور متاثرہ علاقے
سیلاب کی شدت کے باوجود، این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں 831 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 219 بچے، 128 خواتین اور 484 مرد شامل ہیں۔ سب سے زیادہ اموات پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ہوئی ہیں، جہاں بالترتیب 191 اور 480 افراد کی جانیں گئیں۔ اس کے علاوہ سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں بھی جانی نقصان ہوا۔
سیلاب سے ہونے والے مالی نقصانات
سیلاب کے باعث 9 ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے، اور 6 ہزار سے زائد جانور برساتی پانی کی نذر ہوئے ہیں۔ اس قدرتی آفت نے 238 پلوں اور 661 کلومیٹر کی شاہراہوں کو بہا لیا، جس سے رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
امدادی کارروائیاں اور ریسکیو آپریشنز
این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق، سیلاب کے دوران 1880 ریسکیو آپریشنز کیے گئے ہیں، جن میں 5 لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں پنجاب میں 4 لاکھ 85 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جب کہ خیبرپختونخوا میں 14 ہزار افراد کو بچایا گیا۔
کیمپوں میں پناہ گزین
سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 35 ہزار افراد کیمپوں میں پناہ لے چکے ہیں، جن میں خیبرپختونخوا میں 26 ہزار، پنجاب میں 6 ہزار اور گلگت بلتستان میں 3 ہزار افراد شامل ہیں۔ یہ کیمپ متاثرہ افراد کو ضروری امداد اور پناہ فراہم کر رہے ہیں۔
قوم کا عزم اور امدادی سرگرمیاں
اگرچہ سیلاب نے تباہی مچائی ہے، لیکن پاکستان کی عوام اور امدادی اداروں کا عزم اور محنت قابلِ تحسین ہے۔ امدادی کارروائیاں اور ریسکیو آپریشنز کی بدولت ہزاروں افراد کی زندگیاں بچائی جا رہی ہیں، اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی اور تعاون کی ضرورت ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم سب اپنے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کی مدد کریں اور اس آفات کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔