
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی قابلِ اعتراض تصاویر پر شدید ردعمل، خواتین کے حقوق کے تحفظ پر زور
روم: اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے انٹرنیٹ پر اپنی اور دیگر معروف خواتین کی جعلی اور قابلِ اعتراض تصاویر و ویڈیوز کی اشاعت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے "عورت کی تذلیل اور ناقابلِ برداشت عمل” قرار دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے CNN کے مطابق، ایک ویب سائٹ پر جارجیا میلونی، ان کی بہن آریانا میلونی اور کئی دیگر سیاستدان و شوبز شخصیات کی ایڈٹ شدہ ڈیپ فیک تصاویر شائع کی گئیں، جنہیں نہ صرف توہین آمیز انداز میں پیش کیا گیا بلکہ ان کے ساتھ جنسی نوعیت کے جملے بھی تحریر کیے گئے تھے۔
ویب سائٹ بند، پرائیویسی پر نئی بحث چھڑ گئی
یہ نازیبا مواد ’Phica‘ نامی ویب پلیٹ فارم پر موجود تھا، جس کا نام ایک فحش اطالوی لفظ سے لیا گیا ہے۔ شدید عوامی دباؤ کے بعد یہ ویب سائٹ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ تاہم، منتظمین نے دعویٰ کیا کہ یہ مواد یوزر جنریٹڈ تھا، جو مختلف سوشل میڈیا ذرائع سے جمع کیا گیا۔
وزیرِاعظم میلونی نے ایک مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ محض ریوینج پورن نہیں، بلکہ خواتین کی عزت اور پرائیویسی پر حملہ ہے۔” انہوں نے اس واقعے کو 2025 میں خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کی ایک بدترین مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ رجحان اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکا ہے۔
📢 "یہ صرف میرا مسئلہ نہیں، ہر عورت کا مسئلہ ہے” – میلونی
میلونی نے کہا، "میری ہمدردیاں ان تمام خواتین کے ساتھ ہیں جو اس گھناؤنے عمل کا نشانہ بنی ہیں۔ یہ ناقابلِ معافی ہے کہ آج بھی عورت کی تذلیل ایک تفریح سمجھی جاتی ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپ سمیت دنیا بھر میں ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور خواتین کے آن لائن استحصال کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
قانونی اقدامات کا عندیہ
اٹلی میں 2019 سے ریوینج پورن کے خلاف قانون نافذ ہے، جس کے تحت ملوث افراد کو چھ سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس واقعے کے بعد اشارے مل رہے ہیں کہ حکومت ڈیپ فیک مواد کی روک تھام کے لیے قانون سازی پر بھی غور کر سکتی ہے۔
خواتین کے حقوق پر نئی بحث کا آغاز
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اٹلی میں خواتین کے نجی ڈیٹا اور تصاویر کے غلط استعمال سے متعلق پہلے ہی عوامی تشویش پائی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ایک بڑا فیس بک گروپ بند کیا گیا جہاں ہزاروں مرد خواتین کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر شیئر کر رہے تھے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کو درپیش خطرات حقیقی اور بڑھتے ہوئے ہیں۔ جارجیا میلونی کی آواز نہ صرف متاثرہ خواتین کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے، بلکہ یہ عالمی برادری کے لیے ایک کال ٹو ایکشن بھی ہے — کہ وقت آ چکا ہے جب آن لائن تحفظ اور پرائیویسی کو انسانی حق تسلیم کیا جائے۔