
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، خطے میں پائیدار امن اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے، اور بھارت کے "نیو نارمل” کا بیانیہ اب دفن ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت مذاکرات چاہتا ہے تو پاکستان تیار ہے، مگر صرف برابری کی بنیاد پر۔
چین روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت سے اب کسی بھی قسم کے مذاکرات تب ہی ممکن ہوں گے جب دونوں ممالک ایک دوسرے کو مساوی حیثیت دیں۔ انہوں نے کہا، "ہم کسی پر مذاکرات کے لیے دباؤ نہیں ڈال رہے، لیکن اگر بھارت سنجیدہ ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔”
افغانستان سے متعلق مؤقف
اسحاق ڈار نے افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں یا تو افغان حکومت TTP کو ہمارے حوالے کرے یا انہیں ہماری سرحدوں سے دور لے جائے۔” ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے دیے گئے احتجاجی مراسلے کا جائزہ لیا جائے گا۔
پاکستان-آرمینیا تعلقات کا عندیہ
نائب وزیراعظم نے پاکستان اور آرمینیا کے درمیان ممکنہ تعلقات کی طرف اشارہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "جب آذربائیجان اور آرمینیا کے معاملات بہتر ہو چکے ہیں تو ہمیں بھی آگے بڑھنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔”