
شارجہ: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں 9 سال بعد ٹی20 انٹرنیشنل میں ہفتے کے روز ایک بار پھر مدمقابل ہوں گی۔ یہ اہم میچ شارجہ میں جاری ٹرائنگولر سیریز کا حصہ ہے، جس میں دونوں ٹیمیں عمدہ کارکردگی دکھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
پاکستان اور یو اے ای کے درمیان آخری ٹی20 انٹرنیشنل 2016 کے ورلڈکپ میں میرپور، بنگلہ دیش میں کھیلا گیا تھا، جہاں گرین شرٹس نے شاہد آفریدی کی قیادت میں 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس میچ میں پاکستان نے ابتدائی 3 وکٹیں محض 17 رنز پر گنوا دیں، مگر عمر اکمل اور شعیب ملک کی ناقابل شکست 114 رنز کی شراکت نے فتح کو یقینی بنایا۔
اب 9 سال بعد دونوں ٹیمیں شارجہ کے میدان میں آمنے سامنے ہوں گی، جہاں گرین شرٹس نئی توانائی اور جذبے کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ دوسری جانب میزبان کپتان محمد وسیم نے بھی اپنی ٹیم کی تیاریوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
محمد وسیم کا کہنا تھا:
"ایشیا کی دو بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلنا ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔ ہم ماضی میں افغانستان، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش جیسی ٹیموں کو شکست دے چکے ہیں، اور اب ہماری نظریں مزید بہتر کارکردگی پر ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یو اے ای اسکواڈ میں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا بہترین امتزاج ہے۔ "ہم گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بھرپور تیاری کر رہے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ ہم شارجہ میں سخت اور معیاری کرکٹ کھیلیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ شارجہ تینوں ٹیموں کے لیے کسی حد تک ہوم گراؤنڈ جیسا ماحول رکھتا ہے، لیکن یو اے ای نے گزشتہ برسوں میں جو کارکردگی دکھائی، وہ اس میچ میں ان کا اعتماد بڑھانے کے لیے کافی ہے۔