
اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے ایک اہم اور دو ٹوک فیصلے کے تحت تمام غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو 1 ستمبر 2025 تک ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک کی سیکیورٹی، داخلی نظم و نسق اور امیگریشن قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، یہ اقدام غیر قانونی تارکین وطن کے باعث پیدا ہونے والے مسائل، خصوصاً جرائم اور غیر رجسٹرڈ افراد کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہو گیا تھا۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 1 ستمبر کے بعد پاکستان میں بغیر قانونی دستاویزات مقیم افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں گرفتاری، حراست اور ملک بدری شامل ہوگی۔
حکومت نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے تمام صوبائی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور امیگریشن حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے تاکہ انخلاء کا عمل منظم، پرامن اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے مطابق ہو۔
ذرائع کے مطابق، جن افغان باشندوں کے پاس قانونی ویزہ یا رجسٹریشن نہیں ہے، انہیں رضا کارانہ طور پر پاکستان چھوڑنے کا موقع دیا جا رہا ہے تاکہ انہیں زبردستی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پس منظر:
پاکستان میں لاکھوں افغان شہری گزشتہ کئی دہائیوں سے مقیم ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد اب بھی قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکی۔ حکومت کا یہ اقدام غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔