
اسلام آباد (ٹیکنالوجی ڈیسک) — پاکستان کی قومی خلائی ایجنسی سپارکو نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی قبل و بعد کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کر دی ہیں، جن سے ملک میں آنے والی قدرتی آفت کی سنگینی اور اس کے جغرافیائی اثرات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
سیلاب سے پہلے اور بعد کی واضح تصاویر
سپارکو کی جاری کردہ تصاویر میں:
بائیں جانب: سیلاب سے قبل کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے، جہاں تمام دریا اپنی قدرتی حدود میں بہہ رہے ہیں۔
دائیں جانب: سیلاب کے بعد کی تصویر ہے، جس میں واضح طور پر وسیع و عریض رقبے پر صرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے، خاص طور پر رہائشی اور زرعی علاقے بری طرح متاثر دکھائی دے رہے ہیں۔
ایک اور جوڑی تصاویر میں:
22 اگست کو دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔
24 اگست کی تصویر میں دریا اپنے کناروں سے باہر نکل کر اردگرد کی زمینوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔
جدید نیشنل کیٹاسٹروفی ماڈلنگ پروجیکٹ کا آغاز
سپارکو نے نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (NDRMF) کے اشتراک سے "نیشنل کیٹاسٹروفی ماڈلنگ پروجیکٹ” پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔
یہ ماڈل:
سیلاب
خشک سالی
ہیٹ ویوز
طوفان
زلزلے
سونامی
لینڈ سلائیڈز
جیسے قدرتی خطرات کے لیے احتمالی رسک اسسمنٹ ٹولز فراہم کرتا ہے، جن کی مدد سے مستقبل میں نقصانات کو کم کرنے، بہتر حکمتِ عملی بنانے اور قبل از وقت اقدامات ممکن ہوں گے۔
اہمیت اور فوائد
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپارکو کا یہ اقدام نہ صرف آفات کے بعد تجزیے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں ڈیٹا بیسڈ پالیسی سازی اور ڈیجیٹل رسک مینجمنٹ کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے:
ریسکیو و ریلیف آپریشنز کو مؤثر بنایا جا سکے گا
متاثرہ علاقوں کی نشاندہی تیزی سے ممکن ہو گی
زرعی و شہری منصوبہ بندی کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جا سکے گا