
اسلام آباد / لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) — نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آج سے 2 ستمبر تک ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے، خاص طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بادل برسنے سے صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پنجاب بھر میں نیا مون سون اسپیل، دریاؤں کی سطح بلند ہونے کا خدشہ
این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں نویں مون سون اسپیل کا آغاز ہو چکا ہے۔
لاہور، گوجرانوالہ، نارووال، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے دریاؤں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے۔
دریائے راوی اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، درجنوں بستیاں متاثر
دریائے راوی: شاہدرہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں جزوی کمی آئی ہے مگر اب بھی 213,000 کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، جس سے شیراکوٹ، بابو صابو اور دیگر قریبی علاقے متاثر ہو رہے ہیں۔
ہیڈ بلوکی: شاہدرہ سے آنے والا ریلا انتہائی خطرناک قرار، اونچے درجے کے سیلاب کا امکان۔
دریائے ستلج: گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 261,000 کیوسک کا شدید ریلا گزر رہا ہے، جس سے کئی دیہات مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں۔
ملتان اور کوٹ مومن میں ایمرجنسی اقدامات
ملتان: دریائے چناب میں 10 لاکھ کیوسک پانی کے ممکنہ بہاؤ کے پیش نظر ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ سے دو بند توڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پانی کو تقسیم کر کے شہری آبادی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
کوٹ مومن: طالب والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب، پانی گھروں اور اہم شاہراہوں میں داخل، شہریوں کی نقل مکانی جاری۔
ضلعی انتظامیہ کا الرٹ، سخت اقدامات کا عندیہ
ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں کو فوری خالی نہ کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، حتیٰ کہ مال مویشی ضبط کرنے کی بھی تنبیہ دی گئی ہے۔
نالوں کی صورتحال
سیالکوٹ: نالہ ایک میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے، تاہم نالہ بھیڈ اور پلکھو میں اب بھی شدید طغیانی جاری ہے۔
کئی دیہات اور بستیاں جیسے جگ چک، جانی دا ٹھٹھہ، قلعہ قمر سنگھ وغیرہ زیر آب ہیں، جبکہ کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
ہدایات برائے شہری
دریا کنارے اور نالوں کے قریب رہنے والے شہری فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
حفاظتی تدابیر پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
این ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔