
مسلسل نائٹ ڈیوٹی: صحت کیلئے سنگین خطرہ، ماہرین کا انتباہ
لاہور: ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل رات کی شفٹ (Night Duty) کرنے والے افراد کو طبی اور ذہنی صحت کے متعدد سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کئی مطالعات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نائٹ ڈیوٹی کا معمول انسانی جسم کے قدرتی نظام کو بُری طرح متاثر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، مسلسل رات جاگنے سے انسان کا نیند کا معمول متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ڈپریشن، اینگزائٹی، توجہ کی کمی، یادداشت کی خرابی اور فیصلہ سازی میں دشواری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ہارمونی توازن میں بگاڑ
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نائٹ ڈیوٹی کرنے سے انسولین، میلاٹونن اور کورٹیسول جیسے اہم ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں:
ذیابیطس
موٹاپا
ہائی بلڈ پریشر
جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
قوتِ مدافعت اور دل کی صحت پر اثرات
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلسل نائٹ شفٹ کرنے والوں کا قوت مدافعت کا نظام کمزور ہونے لگتا ہے، جس سے وہ بار بار بیمار پڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں دل کے دورے اور فالج (اسٹروک) کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
موڈ اور کارکردگی متاثر
دن میں مکمل اور گہری نیند نہ لینے والے افراد میں چڑچڑاپن، تھکن اور کام کی کارکردگی میں کمی جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں، جو ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔