
بیجنگ / واشنگٹن / پیونگ یانگ (عالمی خبرنامہ) — چین نے امریکا کی جانب سے تجویز کردہ سہ فریقی ایٹمی مذاکرات کو "غیر حقیقت پسندانہ” قرار دیتے ہوئے اس میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ چین بھی ایٹمی ہتھیاروں میں کمی سے متعلق بات چیت میں شامل ہو، تاہم بیجنگ نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا اور روس دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخائر رکھتے ہیں، اس لیے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے ان میں کمی کریں۔ چین نے واضح کیا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی کسی دوڑ کا حصہ نہیں اور اس کی ایٹمی صلاحیت صرف قومی سلامتی کے لیے محدود سطح پر برقرار رکھی گئی ہے۔
شمالی کوریا کا سخت ردعمل
ادھر شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے امریکا میں دیے گئے ایک بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انہیں "منافق” قرار دیا ہے۔ شمالی کوریا نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ یہ اس کی "ریاستی عزت اور وقار” کا مسئلہ ہیں۔
عالمی ایٹمی طاقتوں کی صورتحال
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق:
روس کے پاس: 4,300 سے زائد ایٹمی وارہیڈز
امریکا کے پاس: تقریباً 3,700 وارہیڈز
چین کے پاس: قریباً 500 ایٹمی ہتھیار
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی ایٹمی پالیسی "کم از کم دفاعی صلاحیت” کے اصول پر مبنی ہے، جبکہ امریکا اور روس کے درمیان کئی دہائیوں سے ہتھیاروں کی دوڑ جاری ہے۔
تجزیہ
سفارتی ماہرین کے مطابق چین کا انکار مستقبل میں ایٹمی تخفیف اسلحہ سے متعلق عالمی کوششوں کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ شمالی کوریا کا جارحانہ مؤقف خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔