اوورسیزتازہ ترین

ٹرمپ انتظامیہ کا غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین میں سختی کا اعلان

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) — امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے ویزا پالیسی میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ویزا کی خلاف ورزیوں کی روک تھام، نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت ایف ویزا پر امریکہ آنے والے غیر ملکی طلبہ اب صرف اپنی تعلیم کی مدت تک ملک میں قیام کر سکیں گے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد چار سال مقرر کی گئی ہے۔ اس کے برعکس، غیر ملکی صحافیوں کو 240 دن کا ویزا جاری کیا جائے گا، جس میں توسیع صرف باقاعدہ منظوری کے بعد ممکن ہو گی۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ غیر ملکی افراد ویزا کی دی گئی شرائط پر عمل کریں اور تعلیم یا صحافت کی آڑ میں طویل غیر قانونی قیام یا مشکوک سرگرمیوں سے گریز کیا جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں اس وقت تقریباً 11 لاکھ 26 ہزار غیر ملکی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ 2024 میں پاکستانی طلبہ کی تعداد 10 ہزار 988 تھی، جب کہ 2025 میں اس میں اضافے کے ساتھ 12 ہزار 500 تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی طرح پروفیشنل پارٹنرشپ پروگرام ان جرنلزم کے تحت سالانہ 160 پاکستانی صحافی امریکہ جاتے ہیں، جب کہ صرف 30 امریکی صحافی پاکستان آتے ہیں۔

تشویش اور تنقید

ماہرین تعلیم اور میڈیا اداروں نے نئی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تحقیقی تعاون، تعلیمی تبادلہ، اور صحافتی روابط کو نقصان پہنچے گا، جو نہ صرف بین الاقوامی تعلقات بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی اور علمی ترقی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جو سلامتی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعاون کو بھی فروغ دیں، نہ کہ محدود کریں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button