
بٹ خیلہ – جمعیت علمائے اسلام (ف) ملاکنڈ کے امیر اور ممتاز دینی و سیاسی رہنما مفتی کفایت اللہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ مفتی کفایت اللہ چند روز قبل اپنے بیٹے کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے تھے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں مفتی کفایت اللہ کا ایک بیٹا اور بیٹی موقع پر جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ مفتی صاحب اور ان کی اہلیہ شدید زخمی حالت میں پہلے پشاور اور بعد ازاں اسلام آباد کے اسپتال میں زیر علاج رہے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج رات 10 بجے ظفر پارک، بٹ خیلہ میں ادا کی جائے گی، جس میں جے یو آئی کے مرکزی و مقامی قائدین، کارکنان، علماء کرام، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مفتی کفایت اللہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
"مرحوم کی دعوتی، دینی اور جماعتی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔”
جے یو آئی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بھی مرحوم کی ہمہ جہت خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
مرحوم مفتی کفایت اللہ ایک جری، باعمل اور متحرک دینی رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے، جنہوں نے ضلع ملاکنڈ میں اسلامی شعور اور جے یو آئی کے پیغام کو عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔