
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — ملک بھر کے صارفین کو ماہِ ستمبر کے بلوں میں بجلی کے نرخوں میں ممکنہ کمی کا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ نیپرا میں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں 1 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست پر سماعت مکمل ہوگئی۔
اتھارٹی کی جانب سے یہ سماعت ممبر سندھ رفیق شیخ کی سربراہی میں نیپرا ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے بتایا کہ منظوری کی صورت میں صارفین کو 23 ارب روپے کا ریلیف ستمبر کے بلوں میں دیا جائے گا۔
سماعت کے دوران جولائی کے مہینے میں بارشوں کے باعث کرنٹ لگنے سے ہونے والے حادثات پر نیپرا اتھارٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ رفیق شیخ نے کہا کہ "صرف ایک ماہ میں کرنٹ لگنے کے باعث 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 6 کا تعلق آئیسکو کے دائرہ کار سے تھا۔” انہوں نے آئیسکو انتظامیہ سے سوال کیا کہ "سی ای او کہاں ہیں؟ حفاظتی اقدامات کہاں ہیں؟” انہوں نے مزید کہا کہ نیپرا اتھارٹی ان کمپنیوں پر زیادہ سے زیادہ جرمانے عائد کر سکتی ہے، مگر عدالتوں سے سٹے آرڈرز لے لیے جاتے ہیں۔
نیپرا نے بتایا کہ سی پی پی اے نے جولائی کے مہینے کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت 1.69 روپے فی یونٹ کمی کی درخواست جمع کروائی ہے، جس کا اطلاق صرف ایک ماہ کے لیے ہوگا۔
وزارت توانائی کی جانب سے نیپرا کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کی ہدایت کے مطابق K-Electric صارفین پر بھی وہی ایف سی اے لاگو کیا جائے گا جو ڈسکوز (DISCOs) صارفین کے لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ یکساں ٹیرف پالیسی قائم رہ سکے۔
تاہم یہ ریلیف لائف لائن صارفین، پروٹیکٹڈ صارفین، پری پیڈ میٹرز رکھنے والے صارفین، اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر لاگو نہیں ہوگا۔
نیپرا اتھارٹی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو تسلی سے سنا اور کہا کہ مزید ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔