
اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ اس سال مون سون کا دورانیہ معمول سے زیادہ طویل ہے اور اس کے اثرات ابھی بھی میدانی علاقوں میں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کا انخلاء جاری ہے جبکہ کرتارپور میں سیلاب سے انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ مون سون کے پہلے مرحلے میں پہاڑی علاقوں میں شدید بارشیں ہوئی ہیں جس سے فصلوں کو خاص نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چناب دریا میں مجموعی طور پر 10 لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ موجود ہے جو آنے والے 2 سے 3 دنوں میں تمام ریلے اکٹھے ہو کر پنجند میں پہنچ جائے گا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کا اظہار خیال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ انفراسٹرکچر میں کمی اور کوتاہیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایری گیشن ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ جائزہ لے کہ کہاں انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں نقصانات کو روکا جا سکے۔
احسن اقبال نے ریسکیو کشتیوں کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ نارووال کو آفت زدہ ضلع قرار دیا جائے کیونکہ وہاں کسانوں کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے کئی مقامات پر سڑکوں کے درمیان رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جس سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔