
چینی سائنس دانوں کی بڑی کامیابی: پہلی بار انسان میں خنزیر کے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ
بیجنگ (27 اگست 2025) — طبی تاریخ میں پہلی بار چینی سائنس دانوں نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے خنزیر کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پھیپھڑے انسانی جسم میں کامیابی سے ٹرانسپلانٹ کر دیے ہیں۔
یہ پھیپھڑے 39 سالہ مریض کو لگائے گئے جو اسٹروک کے باعث دماغی موت کا شکار ہوا تھا۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق، ٹرانسپلانٹ کیے گئے پھیپھڑوں کو مریض کے مدافعتی نظام نے فوری طور پر مسترد نہیں کیا، اور یہ پھیپھڑے نو دن تک فعال رہے۔
زینو ٹرانسپلانٹیشن میں اہم پیش رفت
یہ تجربہ زینو ٹرانسپلانٹیشن (یعنی کسی دوسرے جاندار کے عضو کو انسان میں منتقل کرنا) کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ ماضی میں ایسے تجربات مدافعتی نظام کے ردعمل کے باعث ناکام ہوتے رہے، لیکن اس بار سائنس دانوں نے CRISPR/Cas9 جینیاتی ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے پھیپھڑوں میں ایسی تبدیلیاں کیں جو انسانی مدافعتی نظام کے حملے کو روک سکیں۔
پھیپھڑوں کا چیلنج
پھیپھڑوں کی ٹرانسپلانٹیشن خاص طور پر پیچیدہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ پھیپھڑے مسلسل ہوا اور جراثیموں سے براہِ راست رابطے میں ہوتے ہیں، جو جسم کے مدافعتی ردعمل کو تیز کر دیتے ہیں اور اکثر عضو کے مسترد ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ تاہم اس تجربے میں مدافعتی ردعمل قابو میں رہا، جو بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے…
تحقیقی ٹیم کے مطابق، اس ٹرانسپلانٹ کا بنیادی مقصد یہ مشاہدہ کرنا تھا کہ انسانی جسم جینیاتی طور پر تبدیل شدہ غیر انسانی عضو کو کس حد تک قبول کرتا ہے۔ اگر مستقبل میں مزید تحقیق کامیاب رہی تو یہ تجربہ انسانی اعضاء کی قلت کا دیرپا حل ثابت ہو سکتا ہے۔