
ریاض: سعودی حکومت نے مقامی اور غیر ملکی ورکرز کے لیے ایک رضاکارانہ پنشن اور بچت پروگرام شروع کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس اہم اقدام کا مقصد ملک میں گھریلو بچتوں کو فروغ دینا اور بیرونی ترسیلات زر میں کمی لانا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تازہ ترین "آئی وی آرٹیکل” مشاورتی رپورٹ کے مطابق، یہ پروگرام سعودی عرب کی طویل مدتی معاشی اصلاحات کا حصہ ہے اور جلد ہی اس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ پروگرام سعودی شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کارکنوں کے لیے بھی کھلا ہوگا، جو کہ مملکت میں مقیم لاکھوں تارکین وطن کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔
ترسیلات زر اور مالی اعدادوشمار:
سعودی عرب سے غیر ملکی ترسیلات زر میں گزشتہ برس نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 14 فیصد اضافے کے ساتھ 144.2 بلین سعودی ریال (تقریباً 38.4 بلین ڈالر) تک پہنچ گئیں۔ گزشتہ دہائی (2015 تا 2024) کے دوران یہ مجموعی طور پر 1.43 ٹریلین ریال رہی ہیں، جو ملکی معیشت پر ایک بڑا اثر ڈالتی ہیں۔
سوشل انشورنس سسٹم میں نمایاں شمولیت:
سال 2025 کی پہلی سہ ماہی تک سعودی عرب کے سوشل انشورنس نظام میں 12.8 ملین سے زائد صارفین رجسٹرڈ تھے، جن میں سے 77 فیصد یعنی تقریباً 10 ملین غیر ملکی کارکن شامل تھے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں، نئے رضاکارانہ پنشن اور بچت پروگرام کو نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی ملازمین کی مالی بہبود کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
پنشن اصلاحات اور مستقبل کی پالیسی:
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب نے جولائی 2024 میں پنشن اصلاحات منظور کیں، جن کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ، شراکت کی مدت اور شرح میں توسیع، اور پنشن فوائد میں کچھ حد بندی کی گئی۔ ان اصلاحات کا مقصد سسٹم کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم بنانا ہے۔
اگرچہ ان تبدیلیوں سے فوری مالی فائدہ متوقع نہیں، لیکن آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان پالیسیوں کے درمیانی مدت کے اثرات کی مکمل جانچ اور رپورٹنگ کرے۔
ایک مثبت قدم:
ماہرین کے مطابق، نیا رضاکارانہ پنشن اور بچت پروگرام ایک مثبت اور طویل مدتی فائدہ مند قدم ہے، جو نہ صرف ورکرز کے مالی تحفظ میں مدد دے گا بلکہ سعودی معیشت میں اندرونی سرمائے کی روانی کو بڑھا کر بیرونی انحصار کو بھی کم کرے گا۔