پاکستانتازہ ترین

"”پی ٹی آئی کا زوال اندرونی انتشار اور تکبر کا نتیجہ ہے پارٹی سے نکالا جا چکا ہوں، مگر چھوڑوں گا ڈنکے کی چوٹ پر: شیر افضل مروت

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر سرگرم مشہور اکاؤنٹس جیسے "اڈیالہ کی بلی” اور "بابا کوڈا”، دراصل علیمہ خان کے بیٹے چلاتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نفرت انگیز مہمات چلائی جاتی رہیں، لیکن پارٹی قیادت نے انہیں کبھی ڈس اون نہیں کیا۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ 2018 میں مینڈیٹ ملنے کے بعد پارٹی میں تکبر اس قدر بڑھ گیا تھا کہ نئے لوگوں کی شمولیت بند ہو گئی، جبکہ پرانے افراد کو مختلف بہانوں سے پارٹی سے نکالا جاتا رہا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اب لسانی گروہوں میں بٹ چکی ہے، اور اندرونی خلفشار پارٹی کے زوال کا باعث بن رہا ہے۔

"گالم گلوچ بریگیڈ نے پارٹی کی ساکھ تباہ کر دی”

انہوں نے پارٹی کے اندر موجود ایک مخصوص حلقے کو "گالم گلوچ بریگیڈ” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گروہ کی غیر اخلاقی زبان اور رویے نے نہ صرف عوام کو دور کیا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ناراض کیا۔ ان کے مطابق: "کیا اس گالم گلوچ سے کچھ حاصل ہوا؟ بس سب کو ہمارا دشمن بنا دیا گیا۔”

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا غلط استعمال

شیر افضل مروت نے انکشاف کیا کہ اب یہ مخصوص افراد آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا استعمال بھی سیاسی مقاصد کے لیے کر رہے ہیں، جس سے مزید منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت کی خاموشی اور حمایت اس تباہی کی اصل وجہ ہے۔

پارٹی سے نکالا جا چکا ہوں، لیکن چھوڑنے کا اعلان ابھی نہیں کیا: مروت

پارٹی رکنیت سے متعلق سوال پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ "لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں پارٹی چھوڑ رہا ہوں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مجھے تو پہلے ہی نکالا جا چکا ہے۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ فی الحال پارٹی چھوڑنے کا کوئی اعلان نہیں کر رہے، "لیکن جب فیصلہ کروں گا تو کھلے عام کروں گا۔”

"پیر لٹکن شاہ” اور سیاسی استعارے

گفتگو میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے ایک متنازع شخصیت "پیر لٹکن شاہ” کا ذکر کیا، جو ان کے مطابق خواتین کو ہراسانی کے مقدمات میں جیل جا چکے ہیں۔ انہوں نے یہ مثال دیتے ہوئے پاکستان میں اندھی عقیدت اور شخصیت پرستی پر سوال اٹھایا۔

"مٹھائیاں بانٹنے کا کلچر بند ہونا چاہئے”

آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر چھوٹی کامیابی یا واقعے پر مٹھائیاں بانٹنے کا رجحان ختم ہونا چاہئے۔ ان کے مطابق حقیقی تبدیلی صرف اس وقت آئے گی جب باشعور اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا جائے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button