
پشاور/لاہور/عمرکوٹ (نمائندہ خصوصی) — ملک میں مہنگائی کی نئی لہر کے باعث اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پشاور میں آٹے کی قیمتوں کو ایک بار پھر پر لگ گئے ہیں، جب کہ لاہور اور عمرکوٹ میں مرغی کے گوشت کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہونے لگی ہیں۔
پشاور: ایک ہفتے میں 400 روپے کا اضافہ، آٹا 90 روپے فی کلو تک پہنچ گیا
پشاور میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 400 روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔
ایک ہفتہ قبل جو تھیلا 1350 روپے کا دستیاب تھا، اب وہ 1750 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
فی کلو آٹا 90 روپے تک جا پہنچا، جو ایک ہفتے قبل 70 روپے تھا۔
آٹا ڈیلرز اور تاجروں نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ گندم کے نرخوں میں اضافہ قرار دیا ہے، جو کہ 2400 روپے فی 40 کلوگرام سے بڑھ کر 3 ہزار روپے ہو چکے ہیں۔
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ:
"گندم کی نئی فصل آنے میں 7 ماہ باقی ہیں، اگر حکومت نے فوری قدم نہ اٹھایا تو آٹے کا 20 کلو تھیلا 2500 روپے سے بھی اوپر جا سکتا ہے۔”
لاہور و عمرکوٹ: مرغی کا گوشت بھی مہنگا
مہنگائی کی لہر صرف آٹے تک محدود نہیں رہی، بلکہ مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں بھی تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
لاہور کی متعدد مارکیٹوں میں مرغی کا گوشت 595 روپے فی کلو سے بڑھ کر 650 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور قیمتیں کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر عمرکوٹ میں مرغی کے گوشت کی قیمت میں صرف ایک ہفتے میں 100 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے:
گزشتہ ہفتے 650 روپے فی کلو فروخت ہونے والا گوشت، اب 750 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔
شہریوں کا ردِعمل اور مطالبات
عام عوام نے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ:
گندم اور مرغی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے۔
اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر موثر کنٹرول کے لیے مستقل حکمتِ عملی اپنائے۔